Monday , October 23 2017
Home / دنیا / پاکستان کو اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا صفایا کرنے ایکبار پھر امریکہ کا مشورہ

پاکستان کو اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا صفایا کرنے ایکبار پھر امریکہ کا مشورہ

وزیردفاع ایشٹن کارٹر کی صحافیوں سے بات چیت، افغانستان، امریکہ اور ہندوستان کو خطرات
واشنگٹن ۔ 8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے مشورہ دیا کہ وہ اگر دہشت گردوں کو اندرون ملک محفوظ ٹھکانے مہیا نہ کروائے اور سخت کارروائی کرے تو یقینا یہ ایک تاریخی قدم ہوگا کیونکہ اب جو کچھ ہورہا ہے اس نے افغانستان کو غیرمستحکم کردیا ہے۔ امریکی فوجیوں کو خطرات سے دوچار کردیا ہے اور ہندوستان کو بھی نشانہ بنا رکھا ہے۔ امریکی وزیردفاع ایشٹن کارٹر نے کہا کہ پاکستان کیلئے یہ ضروری ہیکہ وہ دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پر کوئی محفوظ ٹھکانہ فراہم نہ کرے کیونکہ اس سے نہ صرف افغانستان اور ہندوستان بلکہ امریکی فوجیوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ نئی دہلی سے جاپان سفر کرنے کے دوران ایشٹن کارٹر نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیلئے یہ بھی اہم ہیکہ وہ ان دہشت گردوں کی شناخت کرے جیسا کہ ہم نے کئی بار اشارے دیئے ہیں کیونکہ یہ دہشت گرد خود پاکستان کی بقاء کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان کو چاہئے کہ تاریخی غلطی نہ کرنے کی بجائے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ دہشت گردوں کے قلع قمع کی طرف مبذول کرے اور یہ توقع کی جاسکتی ہیکہ پاکستان اپنی اس توجہ کو اپنی ’’تیسری آنکھ‘‘ استعمال کرتے ہوئے انجام دے گا۔ ایک توجہ ہوتی ہے اور دوسری ایسی توجہ ہوتی ہے جو تمام دیگر توجوں سے بیگانہ کردیتی ہے۔ اگر یہی سراپا توجہ پاکستان دہشت گردوں کے صفائے کیلئے استعمال کرے تو یقینا یہ ایک تاریخی قدم ہوگا۔ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورکس کا قلع قمع وقت کی اہم ضرورت ہے۔

حکومت پاکستان کے اعلیٰ سطحی عہدیداروں کو ہم نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار یاد دہانی کروائی ہیکہ آخر حقانی نیٹ ورک کی پاکستان کی سرزمین سے  جاری سرگرمیوں کو کس طرح برداشت کیا جارہا ہے۔ کم و بیش یہی بات امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے بھی کہی۔ ان کا کہنا ہیکہ پاکستان اور افغانستان کی وقتاً فوقتاً حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے صفائے کیلئے ایک دوسرے سے مکمل تعاون کریں کیونکہ اس تعاون کے ذریعہ ہی علاقائی استحکام برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ حالیہ دنوں منعقدہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں ہندوستان اور افغانستان نے یکاوتنہا ہوئے پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے زبردست تنقیدیں کی تھیں اور یہ خواہش کی تھی کہ پاکستان کو دہشت گردی اور دہشت گردوں دونوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہوگی۔ وزیراعظم ہند نریندر مودی نے اپنے افتتاحی خطاب کے دوران پاکستان کا نام لئے بغیر کہا تھا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے خطہ کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف صدر افغانستان اشرف غنی نے بھی پاکستان پر افغانستان کے خلاف غیرمعلنہ جنگ چھیڑنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ طالبان سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان میں مکمل تحفظ حاصل ہے جس کی روک تھام ہونی چاہئے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ واشنگٹن میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے خصوصی معاون سید طارق فاطمی اور امریکی نائب وزیرخارجہ انٹونی بلینکن کی ملاقات ہوئی ہے جہاں دونوں قائدین نے علاقائی موضوع بشمول کشمیر اور ہندوپاک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی پر تفصیلی بات چیت کی۔ پاکستانی سفارتخانے سے جاری ایک بیان میں یہ بات کہی گئی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT