Monday , May 29 2017
Home / Top Stories / پاکستان کو دہشت گردی کی فیکٹری بند کرنا چاہئے ‘ معتمد خارجہ

پاکستان کو دہشت گردی کی فیکٹری بند کرنا چاہئے ‘ معتمد خارجہ

ہم نے سارک کو خیر باد نہیں کہا ہے لیکن علاقائی تعاون کیلئے دیگر مواقع کی تلاش جاری ۔ چین سے تعلقات کی بہتری پر توجہ ضروری ‘ جئے شنکر
ممبئی 14 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کو دہشت گردی کی فیکٹری بند کرنے کی ضرورت ہے اور اس تعلق یس اب بین الاقوامی تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔ معتمد خارجہ ایس جئے شنکر نے آج یہ بات کہی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان نے سارک کو خیرباد نہیں کہا ہے تاہم چونکہ سارک تعطل کا شکار ہے اس لئے وہ علاقائی یکجہتی کیلئے دوسرے مواقع کی تلاش جاری رکھے گا ۔ چین کے ساتھ تعلقات پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایس جئے شنکر نے کہا کہ مسائل پر تعھطل کا شکار ہوجانا معاون نہیں ہوتا ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے مزید زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔ معتمد خارجہ گیٹ وے ڈائیلاگ میں سیاسی تبدیلی اور معاشی غیر یقینی کیفیت پر اظہار خیال کر رہے تھے جس کا انعقاد وزارت خارجہ کے اشتراک سے ہوا ہے ۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر لعن طن کے خلاف بھی احتیاط کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان پر تنقیدیں نہیں ہونی چاہئیں۔ ان کے کام کا جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ وہ ایک غور و فکر کے عمل کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ کوئی فوری اظہار خیال نہیں ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کو ان کی متنازعہ امیگریشن پالیسی کی وجہ سے تنقیدوں کا سامنا ہے ۔ جئے شنکر نے کہا کہ مغربی ممالک ہوسکتا ہے کہ پاکستان اور دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اختیار نہ کریں لیکن انہیں اس پر تشویش ضرور ہے ۔ اب یہاں مسئلہ یہی ہے کہ آیا پاکستان واقعی بنیادی اقدامات کرنے کیلئے تیار ہے ۔ پاکستان کیلئے ضرورت ہے کہ وہ دہشت گردی کی فیکٹری کو بند کرے ۔

پاکستان کے تعلق سے جو سوچ ہے وہ یقینی طور پر سکیوریٹی نقطہ نظر سے ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ہم ایسی صورتحال میں رہ سکتے ہیں جہاں خطرہ بہت کم ہو لیکن ایسی صورتحال میں نہیں رہ سکتے جہاں دہشت گردی ہو ۔ جب تک پاکستان میں پشت پناہی ملتی رہے گی دہشت گردی جاری رہے گی ۔ جئے شنکر نے کہا کہ پہلے دہشت گردی کو ہمارا مسئلہ قرار دیا جاتا تھا لیکن اب یہ ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ آج دہشت گردی پر بین الاقوامی سطح پر تشویش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ہمہ جہتی مصروفیت نہ صرف دیگر وجوہات سے اچھی ہے بلکہ یہ ہندوستان کے قومی مفاد میں بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمہ قطبی مصروفیت میں ہیں جہاں ہر کوئی ہر کسی سے مصروف ہے ۔ بین الاقوامی منظرنامہ پر ہندوستان کے وسیع تر رول کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان عالمی سطح پر مرکزی مقام حاصل کرے کیونکہ بیشتر بڑے ممالک کا رول کم ہوتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب بڑے ممالک اپنی ذمہ داریوں میں کمی کر رہے ہیں تو دوسروں کیلئے موقع بنتا ہے ۔ یہاں دوسروں کیلئے جگہ بنتی ہے اور اس موقع سے استفادہ کرنا ہمارے مفاد میں ہے ۔ ان کے خیال میں ہندوستان کو بین الاقوامی فورم میں زیادہ با اختیار موقف اختیار کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو سارک کو خیر باد نہیں کہنا چاہئے ۔ ہم نے سارک کو ختم نہیں کیا ہے ۔ ہم ایسا نہیں کرکستے اور ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔ جہاں تک علاقائی تعاون کی بات ہے ہم دوسرے امکانات کو بھی تلاش کر رہے ہیں کیونکہ سارک تعطل کا شکار ہوگیا ہے ۔ ایک ایسے وقت جبکہ بڑی طاقتیں اپنی ہمہ جہتی مصروفیت پر نظر ثانی کر رہی ہیں ہندوستان کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان نے اس سے کبھی بھی قطع تعلق کی کوشش نہیں کی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT