Wednesday , August 23 2017
Home / پاکستان / پاکستان کو ہند کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی اُمید

پاکستان کو ہند کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی اُمید

وزیراعظم مودی کے دورۂ لاہور کا پی پی پی اور تحریک ِ انصاف کی جانب سے خیرمقدم
اسلام آباد۔ 26 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے اچانک دورۂ لاہور کا پاکستان کی اکثر بڑی سیاسی جماعتوں نے آج خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ’’تعلقات میں نئی شروعات ہے‘‘ اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ نریندر مودی گزشتہ روز افغانستان سے اپنے وطن واپسی کے دوران لاہور میں تقریباً دو گھنٹے توقف کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف نے رائے ونڈ میں ملاقات کی تھی۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) مودی کے اس دورہ کا خیرمقدم کرتی ہے۔ پی پی پی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ’’نریندر مودی کا پاکستان میں خیرمقدم کیا جاتا ہے، مسلسل رابطے ہی تمام دیرینہ مسائل کی یکسوئی کا واحد راستہ ہیں‘‘۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی مودی کے دورہ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری ہوگی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے مودی کے دورہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس سے علاقائی امن و استحکام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کی یکسوئی کے لئے اس قسم کے رابطے جاری رہنا چاہئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ان کا ملک اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ ریڈیو پاکستان کی خبر کے مطابق پی پی پی کے سابق وزیر اطلاعات قمر زماں کابٹرا نے کہا کہ مودی کا دورہ جامع مذاکرات کے انعقاد میں معاون ثابت ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈر زاہد خاں نے کہا کہ یہ ہند ۔ پاک تعلقات میں ایک نئی شروعات ہے۔ انسانی حقوق کی معروف جہد کار اسماء جہانگیر نے کہا کہ نریندر مودی کو چاہئے کو چاہئے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو روکنے میں کلیدی رول ادا کریں۔ دائیں بازو کی شدت پسند جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے کہا کہ ’’یہ بدبختی کی بات ہے کہ پاکستان میں مودی کا خیرمقدم کیا گیا‘‘۔ ممنوعہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے کہا کہ مودی کے لئے غیرمعمولی استقبال سے پاکستان کے حب الوطن اور وفادار عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ حافظ سعید نے کہا کہ ’’مودی اور نواز شریف کی نجی ملاقات سے کشمیری عوام کو کس قسم کا پیغام پہونچے گا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT