Monday , August 21 2017
Home / Ads Others / پاکستان کیساتھ حکومت ہند کا کوئی لائحہ عمل موجود نہیں

پاکستان کیساتھ حکومت ہند کا کوئی لائحہ عمل موجود نہیں

کانگریس کے ترجمان آنند شرما کا ایک پریس کانفرنس میں بیان

نئی دہلی۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام)کانگریس نے آج حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس کے پاس پاکستان کے ساتھ بات چیت کا کوئی ’’لائحہ عمل موجود نہیں‘‘ ہے۔ کانگریس نے کہا کہ حکومت اچانک پالیسی بیانات دے رہی ہے۔ پارٹی نے پاکستان کے سفیر کی جانب سے حریت قائدین کی مشاورتی کے لئے دعوت پر بھی حکومت سے وضاحت طلب کی جبکہ جاریہ ہفتہ کے اواخر میں ہند۔پاک مشیران قومی سلامتی کی بات چیت مقرر ہے۔ کانگریس نے کہا کہ ریاستی عوام نے علیحدگی پسندوں کو مسترد کردیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس قائد آنند شرما نے کہا کہ کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے اور نہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا کوئی نظریہ ہے۔ مسائل اور چیلنج پیچیدہ ہیں۔ حکومت ، پاکستان کے ساتھ بات چیت کے بارے میں اچانک بیانات دے رہی ہے۔ آنند شرما نے کہا کہ مجوزہ بات چیت پر سابق وزیر خارجہ اور بی جے پی قائد یشونت سنہا بھی تنقید کرچکے ہیں۔ پاکستان کے سفیر کی جانب سے کشمیری علیحدگی پسندوں کو دعوت دی گئی ہے۔ آخر بات چیت کا موضوع کیا ہے۔ کیا علیحدگی پسند ریاست میں سرگرم ہیں۔ ہمیں اس دعوت کو غیرضروری اہمیت نہیں دینی چاہئے۔

وہ ملک کے اتحاد، یکجہتی اور دستور کا احترام نہیں کرتے۔ جموں و کشمیر میں کوئی منتخبہ حکومت بھی نہیں ہے۔ آنند شرما نے کہا کہ عوام ایک سے زیادہ مرتبہ اپنی رائے ظاہر کرچکے ہیں کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے چنانچہ اب سودے بازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ آنند شرما نے وزیراعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ صرف وہی کہہ سکتے ہیںکہ انہیں وزیراعظم پاکستان نواز شریف سے اوفا میں کونسے تیقن حاصل ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ مشیران قومی سلامتی سطح کی بات چیت پر راضی ہوئے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجے والا نے کہا کہ پاکستان کو ہندوستان میں جموں و کشمیر کے الحاق پر اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب جبکہ مشیران قومی سلامتی سطح کی بات چیت سے پہلے پاکستان نے علیحدگی پسندوں کو دعوت دی ہے جن کا دستور ہند پر ایقان نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کے ساتھ مودی حکومت کی یہی پالیسی ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے بارے میں مودی حکومت کی کیا پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری اور سیاست دانی بلکہ انتظامی پروگرام اور تصویرکشی کے مواقع تک دستیاب نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT