Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / پاکستان کی آبادی میں تیز رفتار اضافہ

پاکستان کی آبادی میں تیز رفتار اضافہ

مردم شماری میںایک شخص کو 36 اور دوسرے کو 23 بچے ہونے کا انکشاف

بنو(پاکستان)۔ 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں 19 سال کے طویل عرصہ بعد پہلی مرتبہ مردم شماری کی جارہی ہے جس میں یہ انکشاف ہوا کہ 3 افراد تقریباً 100 بچوں کے باپ ہیں۔ ماہرین نے آبادی میں تیز رفتار اضافہ کی وجہ سے معاشی ترقی کے بارے میں خدشات ظاہر کئے لیکن ان تینوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ ’’اللہ رزق کا انتظام کرے گا‘‘۔ جنوبی ایشیا میں شرح پیدائش سب سے زیادہ پاکستان میں ہے جہاں ایک خاتون کو اوسطاً 3 بچے ہوتے ہیں۔ عالمی بینک اور سرکاری اعداد و شمار کے علاوہ مردم شماری میں صاف ظاہر کیا گیا ہے کہ آبادی کی شرح میں تیز رفتار اضافہ برقرار ہے۔ گلزار خان جو 36 بچوںکے باپ ہیں، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ساری کائنات بنائی اور انسان کی تخلیق بھی اسی نے کی، لہذا مجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ اس قدرتی عمل میں رکاوٹ کھڑی کرے۔ انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے یہ دراصل پاکستانی عوام کی اکثریت کی رائے ہے۔ یہی وجہ خاندانی منصوبہ بندی میں رکاوٹ بنتی ہے۔ شمال مغرب علاقہ میں قبائیلی مخاصمت بھی اہم وجہ ہے جہاں 57 سالہ ایک شخص بنو شہر میں قیام پذیر ہے اور وہ اپنی تیسری بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے جو حاملہ ہے۔ 57 سالہ اس شخص نے اپنے 23 بچوں کے ساتھ انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مضبوط ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ میچ کھیلنے کیلئے ان بچوں کو کسی دوسرے دوست کی ضرورت نہیں۔ کثرت ازواج کی پاکستان میں قانونی طور پر اجازت ہے لیکن اس پر عمل کم ہی ہوتا ہے۔ پاکستان میں آخری مرتبہ 1998ء میں مردم شماری کی گئی تھی جس کے مطابق یہاں کی آبادی 135 ملین تھی۔ اس وقت جاری مردم شماری کے ابتدائی نتائج سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آبادی 200 ملین کے قریب پہنچ چکی ہے۔ مردم شماری کے قطعی نتائج کا جولائی کے اختتام پر اعلان ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT