Saturday , September 23 2017
Home / دنیا / پاکستان کی تشویش محض بہانہ ، سخت پابندیوں کا امریکی انتباہ

پاکستان کی تشویش محض بہانہ ، سخت پابندیوں کا امریکی انتباہ

اربوں ڈالرس امداد کے باوجود پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ
واشنگٹن 23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں اور ان گروپوں کا ساتھ دینے والے پاکستانی حکام پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے ۔ یہ وارننگ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان مائیکل اینٹن نے دی ہے ۔افغانستان، پاکستان اور جنوب ایشیائی خطے کے لیے نئی اور پہلے سے سخت پالیسی کے اعلان کے بعد ترجمان نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ ‘اب تک پاکستان کے ساتھ معاملات جس طرح جاری تھے وہ ختم ہوگئے ہیں اور امریکہ حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں اور ان گروپوں کا ساتھ دینے والے پاکستانی حکام پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے ۔یہ اطلاع امریکی ویب سائٹ پولیٹیکو کی رپورٹ میں دی گئی ہے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی معلنہ نئی پالیسی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ انہیں صدر اور انتظامیہ نے نوٹس دے دیا ہے ۔مائیکل اینٹن نے دعویٰ کیا کہ ‘ایک زمانے سے امریکہ پاکستان کے ساتھ انتہائی صبر سے پیش آتا رہا لیکن اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔اس بیچ یاد رہے کہ افغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی راہ ہموار کرنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ افغانستان میں امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے وعدے سے بظاہر دست بردار ہوتے ہوئے پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام بھی ایک بار پھر دہرادیا ہے ۔پاکستان کی دی جانے والی امداد میں کمی کی دھمکی دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے اُن ہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے ‘۔اس با ت ترجمان کا کہنا تھا کہ امداد کے عوض امریکہ کو پاک افغان سرحدی علاقوں سے سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر کوئی کارروائی دیکھنے کو نہیں ملتی بلکہ پاکستان دہشت گرد گروپوں کی براہ راست حمایت کرتا نظر آتا ہے۔ ترجمان نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہندستان اور افغانستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر پاکستان کی تشویش کو ‘بہانہ’ قرار دے کر خارج کردیا اور کہا کہ افغانستان میں ہندستان کا سفارت عمل پاکستان کے لیے خطرہ نہیں۔ ہندوستان وہاں کوئی فوجی اڈہ قائم نہیں کررہاہے ۔ فوجی تعیناتی نہیں کررہا یعنی ایسا کچھ نہیں کررہاہے جس سے پاکستان کوشکایت پیدا ہو۔

TOPPOPULARRECENT