Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / پاکستان کے تعلق سے ہندوستان کے موقف کو امریکی تائید

پاکستان کے تعلق سے ہندوستان کے موقف کو امریکی تائید

 
6 نیوکلیر ری ایکٹرس کی تعمیر ، ویزا فیس میں اضافہ پر تشویش کا جائزہ ، سشماسوراج اور جان کیری کی مشترکہ پریس کانفرنس
نئی دہلی ۔ /30 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے ہندوستان کے اس مطالبہ کی بھرپور تائید کی کہ پاکستان کو ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئیے جو اس کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں کے ذریعہ سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں ۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے کہا کہ ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے ساتھ پارٹنر شپ میں امریکہ برابر کا شریک ہے ۔ آج جان کیری اور وزیر امور خارجہ سشما سواراج کی بات چیت کے دوران دہشت گردی اور بالخصوص پاکستان سے اس کی بڑھتی سرگرمیوں کا موضوع زیربحث آیا ۔ سشما سواراج نے سرحد پار دہشت گردی سے ہونے والے مسائل کے بارے میں جان کیری کو آگاہ کیا ۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں سشما سواراج نے کہا ہم اس مطالبہ کا اعادہ کرتے ہیں کہ پاکستان ان ٹھکانوں کو فوری ختم کرے جو دہشت گردوں اور مجرمانہ نیٹ ورکس بشمول لشکر طیبہ ، جیش محمد اور ڈی کمپنی کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہیں ۔ سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان کو 2008 ء ممبئی اور 2016 ء پٹھان کوٹ دہشت گرد حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیری نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور فوجی سربراہ راحیل شریف سے بات کی تاکہ پاکستان کسی بھی دہشت گرد گروپ کو اپنی سرزمین محفوظ پناہ گاہ بننے نہ دے ۔ سشما سواراج نے کہا کہ دونوں ممالک نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ کسی بھی ملک کو دوہرا معیار جیسے اچھے اور خراب دہشت گردوں کی زمرہ بندی اختیار نہیں کرنی چاہئیے اور نہ ہی انہیں دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا چاہئیے ۔

ہندوستان اور امریکہ نے 6 نیوکلیر ری ایکٹرس کی تعمیر کے سلسلے میں پیشرفت سے بھی اتفاق کیا ۔ اس کے علاوہ جوہری توانائی اور خلائی شعبہ میں باہمی تعاون میں اضافہ پر تبادلہ خیال کیا ۔ سشما سواراج نے بتایا کہ امریکہ نے ویزا فیس میں اضافہ سے متعلق ہندوستان کی تشویش کا جائزہ لینے کا تیقن دیا ہے ۔ ہندوستان نے اس مسئلہ کا غیرامتیازی حل تلاش کرنے پر زور دیا تھا ۔ امریکہ نے تاہم واضح کیا کہ ویزا فیس میں اضافہ کا مقصد ہندوستانی پروفیشنلس کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ یہ پالیسی فیصلہ تھا ۔ اس دوران واشنگٹن میں باہمی دفاعی تعلقات میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرتے ہوئے ہندوستان اور امریکہ نے اہم دفاعی معاہدہ پر دستخط کئے جس کے نتیجہ میں دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے اثاثہ جات اور اڈوں کو استعمال کرسکیں گے تاکہ تعمیر و مرمت اور رسد کی سربراہی کے کام انجام دیئے جاسکیں۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر اور وزیر دفاع امریکہ ایشٹن کارٹر نے معاہدہ پر دستخط کئے اور کہاکہ اُس سے عملی طور پر انتظام اور تبادلوں کے لئے مواقع میں سہولت حاصل ہوگی۔ یہ معاہدہ دفاعی تائید، سربراہی اور خدمات میں مددگار ثابت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT