Monday , July 24 2017
Home / Top Stories / پاکستان کے تین شہروں میں دھماکے اور فائرنگ ‘ 42 افراد ہلاک

پاکستان کے تین شہروں میں دھماکے اور فائرنگ ‘ 42 افراد ہلاک

پارہ چنار میں عید کی خریدی میں مصروف افراد نشانہ ۔ کراچی میںپولیس عہدیداروں پر فائرنگ ‘121 افراد زخمی
پشاور / کراچی 23 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے تین بڑے شہروں میں پیش آئے خود کش دھماکوں اور عسکریت پسندوں کی فارئنگ کے واقعات میں کم از کم 42 افراد ہلاک اور 121 زخمی ہوگئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ایک شیعہ اکثیرتی شہر میں عید کی خریداری میںوالی پرہجوم مارکٹوں میںدو دھماکے ہوئے جبکہ ایک خود کش بمبار نے ایک اور شہر میں دھماکو مادوں سے لدی کار کو دھماکہ سے اڑا دیا تھا ۔ انسپکٹر جنرل پولیس کوئیٹہ احسان محبوب کے دفتر کے قریب ایک خود کش بمبار نے اپنی دھماکو مادوں سے لدی کار کو دھماکہ سے اڑا لیا جس کے نتیجہ میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے ۔ ان میں سات پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس کارروائی میں 21 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس دھماکہ کی آئی ایس سے تعلق رکھنے والے مقامی گروپ اور جماعت الاحرار دونوں نے ذمہ داری قبول کی ہے ۔ جماعت الاحرار تحریک طالبان پاکستان کا علیحدہ شدہ گروپ ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ خود کش کار بم دھماکہ میں 13 افراد بشمول سات پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے چند گھنٹوں کے بعد خرم قبائلی علاقہ کے شیعہ غالب آبادی والے شہر پارہ چنار میں متواتر دو دھماکے ہوئے ۔ یہ دھماکے پرہجوم مارکٹوں میں ہوئے جہاں عوام کی کثیر تعداد عید کی حریداری میں مصروف تھی ۔ کہا گیا ہے کہ ان دھماکوں میں 25 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت شیعوں کی ہے ۔ اس کے علاوہ 100 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پہلا دھماکہ مصروف اوقات میں ٹوری مارکٹ میں ہوا ۔

دوسرا دھماکہ اس وقت ہوا جب امدادی کارکن اور راہ گیر پہلے دھماکہ میں زخمی ہونے والے افراد کی مدد کیلئے پہونچے تھے ۔ ضلع جنرل ہاسپٹل پارہ چنار کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ صابر حسین نے بتایا کہ کم از کم 25 افراد ہلاک اور دوسرے 100 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زائد از 20 زخمیوں کی حالت نازک ہے ۔ کسی بھی گروپ نے ابھی ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ شام کے اوقعات میں دو مسلح افراد نے جو موٹر سائیکل پر سوار تھے اور ان کے چہرے ہیلمٹس میں چھپے ہوئے تھے کراچی میںلب سڑک ایک ریسٹورنٹ میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ مہلوکین میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھی شامل ہے ۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس آصف احمد نے یہ بات بتائی ۔ پارہ چنار میں عہدیداروں نے کہا کہ جمعۃ الوداع کے موقع پر دھماکوں کے ذریعہ عید کی خریداری میں مصروف افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ایمرجنسی اور امدادی کارکنوں نے زخمیوں کو ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہاسپٹل پارہ چنار منتقل کیا ۔ سکیوریٹی فورسیس نے سارے علاقہ کی ناکہ بندی کردی ہے اور تلاشی مہم شروع کردی گئی ہے ۔ پاکستانی فوج کے دستے اور ایف سی اہلکار دھماکوں کے مقام پر پہونچ گئے ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں مدد کر رہے ہیں۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ فوج کے دو ہیلی کاپٹرس کو بھی پشاور سے پارہ چنار روانہ کردیا گیا ہے تاکہ وہاں زخمیوں کو تیزی کے ساتھ منتقل کیا جاسکے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT