Wednesday , August 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان کے خلاف مقابلہ دیگرمقابلوں کی مانند:کوہلی

پاکستان کے خلاف مقابلہ دیگرمقابلوں کی مانند:کوہلی

نئی دہلی۔25 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹ  ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی نے کہا  ہے کہ چیمپئنز ٹرافی میں اسٹیڈیم کا ماحول مختلف ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کیخلاف مقابلہ دوسرے عام مقابلوں جیسا ہی ہوگا۔ چیمپئنز ٹرافی  کے اس مقابلے  کیلئے تیاری بھی کسی دوسرے مقابلے کی طرح ہی کریں گے ۔ہند۔پاک مقابلہ شائقین کیلئے کافی پرجوش ہوتا ہے لیکن ان پہلوؤں پر سوچنے سے کیا حاصل جو ہمارے قابو میں ہی نہیں،روایتی حریف کیخلاف کھیلتے ہوئے سوچ بھی وہی ہوگی جو کہ جنوبی افریقہ،آسٹریلیا اور انگلینڈ کے سامنے ہوتی ہے ۔خطاب کا دفاع واحد مقصد نہیں بلکہ میدان میں اتر کر کھیل کا لطف بھی اٹھانا ہے۔چیمپئنز ٹرافی کیلئے انگلینڈ روانگی سے قبل پریس کانفرنس میں کپتان کوہلی نے وضاحت کر دی کہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کیخلاف افتتاحی میچ کے حوالے سے میڈیا میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے لیکن چار جون کو ہونے والامقابلہ بھی دوسرے عام مقابلوں  جیسا ہی ہوگا جس کیلئے ان کی ٹیم بالکل اسی طرح اپنی تیاریاں کرے گی جیسے کسی اور ٹیم سے مقابلے کیلئے کرتی ہے۔ کوہلی کے بموجب  وہ بڑے احترام کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں کہ میچ کے دوران ارد گرد جو کچھ بھی چل رہا ہوتا ہے انہیں اس بات کا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کا ساتھی بیٹسمین کون ہے کیونکہ ایسی باتوں پر سوچنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا جو ان کے قابو میں نہیں کیونکہ بطور کرکٹر ان کیلئے وہ کھیل اہم ہوتا ہے جس سے انہیں محبت ہے اور ان کے خیالات کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔کوہلی نے تسلیم کیا کہ ہند۔ پاک مقابلہ شائقین کیلئے بہت زیادہ پرجوش ہوتا ہے اور میدان میں ماحول بھی کافی حد تک تبدیل ہو جاتا ہے لیکن بحیثیت کرکٹر ان کیلئے یہ بھی عام میچوں جیسا ہی ہوتا ہے اور اس میچ کے حوالے سے بڑھا چڑھا کر جو باتیں کی جا رہی ہوتی ہیں ان پر سوچنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ انہیں قابو نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ  وہ پاکستان کیخلاف میچ کیلئے بھی اسی طرح پریکٹس کرتے ہیں جیسے کہ کسی اور ٹیم سے مقابلے کیلئے کی جاتی ہے اور باوجود اس کے کہ اسٹیڈیم کا ماحول قدرے مختلف ہو جاتا ہے لیکن ان کا ذہن قطعی تبدیل نہیں ہوتا جس کے ساتھ وہ انگلینڈ ،آسٹریلیا یا جنوبی افریقہ کا بھی سامنا کرتے ہیں۔قومی کپتان نے واضح کیا کہ دوسرے ممالک کے کھلاڑی اگر ہندوستان میں اچھے کھیل کا مظاہرہ نہ کر سکیں تو ان پر ان پر بہت زیادہ تنقید نہیں کی جاتی لیکن اگر ہندوستانی کھلاڑی بیرون ملک کھیلتے ہوئے ناکامی سے دوچار ہوجائیں تو ان کی گردنوں پر خنجر لٹکا دیا جاتا ہے۔ویرات کوہلی نے اپنی ٹیم کے دفاعی چیمپئن ہونے پر واضح کیا کہ ان کیلئے اولین چیلنج ہی یہ ہے کہ خود کو دفاعی چیمپئن سمجھنے کر کھیلنے کے بجائے ہندوستانی کھلاڑی کھیل کا بھرپور لطف اٹھائیں کیونکہ اسی ذہن  کے ساتھ انہوں نے گزشتہ مرتبہ بھی خطاب حاصل کیا تھا اور موجودہ ٹیم بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے اورکھلاڑی بھرپور جذبے کے ساتھ میدان سنبھالیں اور خود کو ثابت کر یں گے۔ کوہلی نے کہا کہ  مسابقت کے تناظر سے دیکھا جائے تو چیمپئنز ٹرافی ٹورنمنٹ ورلڈ کپ سے کہیں زیادہ مشکل ہے کیونکہ ورلڈ کپ میں لیگ مرحلے میں مشکلات سے دوچار ہونے پر بھی بعد میں خود کو سنبھالا جا سکتا ہے لیکن چیمپئنز ٹرافی میں پہلے میچ سے ہی اپنے کھیل کے عروج کو چھونا پڑتا ہے اور ایسا نہ کرنے پر ٹیم کی کامیابی کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں مہندر سنگھ دھونی اور یوراج سنگھ کے متعلق انہوں نے کہا کہ  دونوں کو کھیل کے دوران مکمل آزادی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ کھل کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں کیونکہ انہیں بخوبی معلوم  ہے کہ ٹیم کو کامیابی کی راہ پر کس طرح گامزن کرنا ہے اور مشکلات کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT