Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / ’پاکستان کے دس ٹکڑے کرنا محض دیوانے کا خواب‘

’پاکستان کے دس ٹکڑے کرنا محض دیوانے کا خواب‘

وزیرداخلہ ہند راجناتھ سنگھ کے بیان پر وزیرداخلہ پاکستان نثار علی خان کا سخت ردعمل
اسلام آباد ۔ 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کا یہ کہنا کہ وہ پاکستان کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کردے گا، محض دیوانہ کا خواب ہے‘‘۔ پاکستان کے وزیرداخلہ نثار علی خان نے یہ بات کہی اور یہ بھی کہا کہ یہ خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ نثار علی خان نے یہ بیان اس وقت دیا جب ایک روز قبل وزیرداخلہ ہند راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کیا تو اس کے دس ٹکڑے کردیئے جائیں گے۔ نثار علی خان نے راجناتھ سنگھ کے بیان کو ’’کھوکھلے دعوے‘‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ ہندوستان کے ٹکڑے کسی دیگر ملک نے نہیں بلکہ خود اس کی پالیسی نے کئے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستان میں مسلمان ۔ مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہوکر مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کو قصداً نشانہ بنارہی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ راجناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر کے کتھوا ڈسٹرکٹ میں یوم شہیدان کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کی جب مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوئی تو پاکستان وجود میں آیا۔ تاہم پاکستان اپنے آپ کو متحد نہیں رکھ سکا۔ 1971ء میں پاکستان کے بھی دو ٹکڑے ہوگئے اور سابقہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی شکل میں عالمی نقشہ پر آ گیا۔ اب بھی وقت ہیکہ پاکستان اپنی حرکتوں سے باز آجائے ورنہ وہ دن دور نہیں جب اس کے مزید دس ٹکڑے ہوجائیں گے اور اس میں ہندوستان کا کوئی رول نہیں ہوگا۔ ان ریمارکس کا پاکستان نے سخت نوٹ لیا تھا اور نثار علی خان نے شاید ’’اینٹ کا جواب پتھر‘‘ سے دینے والے مقولہ پر عمل کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں آج اقلیتوں کی حالت قابل رحم ہے اور خصوصی طور پر مودی حکومت میں انہیں شدید خطرات کا سامنا ہے۔

اب صورتحال کا اگر جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ حکومت ہند نے پورے ملک میں نفرت کی ایک دیوار کھڑی کردی ہے۔ معصوم اور بے گناہ کشمیریوں کے خون سے بی جے پی حکومت کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ یاد رہیکہ دونوں وزرائے داخلہ کی جانب سے لفظوں کی یہ جنگ دراصل کچھ عرصہ قبل اوری میں پاکستان کے دہشت گرد حملوں کے بعد ہندوستان کی جانب سے سرجیکل حملے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کے بعد کوئی نئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ ماضی میں بھی ایسا ہوچکا ہے۔ نثار علی خان نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ہندوستان بلوچستان کے داخلی معاملات میں بھی دخل اندازی کررہا ہے۔ ہم خود بلوچستان میں قیام امن کے خواہاں ہیں لیکن اس کیلئے ہندوستان کی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ادعا کیا کہ پاکستان میں کلبھوش جادھو اور دیگر ہندوستانی ایجنٹس کی گرفتاریاں اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ ہندوستان پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کررہا ہے۔ یاد رہیکہ کلبھوش جادھو وہی شخص ہے جو بلوچستان میں ایران کے راستے داخل ہوا تھا اور جسے بلوچستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستان نے اس پر مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ واضح رہیکہ سارک کانفرنس بھی جاریہ سال منسوخ کی جاچکی ہے جس پر وزیراعظم نواز شریف نے بھی اپنی برہمی کا اظہار کیا تھا اور یہ تک کہا تھا کہ ’’سارک‘‘ صرف اپنا وجود برقرار رکھنے میں ہی کامیاب ہے ورنہ اس کے وجود کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جب ہندوستان جیسا بڑا اور سیکولر ملک سارک کانفرنس میں شرکت سے گریز کرے تو چھوٹے ممالک سے کیا توقع کی جاسکتی ہے حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان قیام امن کیلئے امریکہ کے نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہیکہ وہ اس کیلئے (قیام امن) کوئی بھی رول ادا کرسکتے ہیں۔ اب جبکہ امریکہ میں ایک ماہ بعد قیادت تبدیل ہونے والی ہے وہیں ہندوپاک کو بھی اپنی ترجیحات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT