Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف قتل مقدمہ میں بری

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف قتل مقدمہ میں بری

کراچی۔28جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو آج انسداد دہشت گردی عدالت کوئٹہ میں 2006ء کے بلوچ قوم پرست قائد نواب اکبر خان بگتی کے قتل مقدمہ میں بری کردیا ۔ سابق فوجی حکمران کئی اعلیٰ سطحی مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ آج کا فیصلہ ان کیلئے ایک بڑی راحت ثابت ہوا ۔ مشرف نے 2005ء کے اوآخر میں بلوچستان میں فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا جب کہ انہیں ایک راکٹ حملہ کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ جب وہ بلوچستان کے دورہ پر تھے ۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق فوجی صدر مشرف کے علاوہ سابق صوبائی وزیر داخلہ میر شعیب نوشیروانی اور قومی وطن پارٹی کے صدر و رکن قومی اسمبلی آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو بھی بری کردیا ۔ فیصلہ کے اعلان کے بعد بگتی کے بڑے فرزند جمیل بگتی کے وکیل سہیل راجپوت نے کہا کہ وہ اس فیصلہ سے مطمئن نہیں ہے اور اسے اعلیٰ تر عدالت میں چیلنج کریں گے ۔ عدالت نے جمیل کی درخواست بھی نامنظور کردی جس میں انہوں نے ان کے والد کی نعش کو قبر سے برآمد کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ اس بات کی توثیق ہوسکے کہ یہ نعش نواب اکبرخان بگتی کی ہے یا نہیں انہیں ڈیرہ بگتی کے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا ۔ایک علحدہ درخواست میں جمیل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کو طلب کیا جائے جنہوں نے مارچ 2005ء میں ڈیرہ بگتی میں تشدد کے بعد اکبر بگتی سے ملاقات کی تھی جس میں کئی افراد ہلاک کئے گئے تھے۔ جمیل نے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی، سابق وزیرداخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ اور دیگر افراد کو قتل میں ملوث قرار دیا تھا اور انہیں طلب کرنے کی عدالت سے درخواست کی تھی۔ نواب اکبر خان بگتی کی ہلاکت سے ملک گیر سطح پر احتجاج کیا گیا تھا جس سے مسلح شورش مزید بھڑک اٹھی تھی جس کا آغاز 2004ء میں بلوچستان میں ہوا تھا۔ دریں اثناء سابق صدر پاکستان پرویز مشرف نے کہا کہ پٹھان کوٹ ہندوستانی فضائیہ کے فوجی اڈہ پر حملہ کرنے والے غیر سرکاری افراد تھے ، شبہ کیا جاتا ہیکہ اس کی سازش مولانا مسعود اظہر نے تیار کی تھی جو پاکستان میں ہنوز آزاد گھوم رہے ہیں۔ پرویز مشرف نے وزیراعظم نریندر مودی کے لاہور دورہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہے اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے ساتھ ان کا اظہار خیرسگالی صرف ایک دکھاوا ہے۔ 72 سالہ مشرف 1999ء سے 2008 ء تک پاکستان کے حکمراں تھے۔

TOPPOPULARRECENT