Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / پاکستان کے نئے سربراہ فوج جنرل باجوا جمہوریت حامی

پاکستان کے نئے سربراہ فوج جنرل باجوا جمہوریت حامی

توازن قوت میں تبدیلی کے اشارے ‘ 30نومبر سے جنرل راحیل کے جانشین
اسلام آباد ۔ 27 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جنرل قمرباجوا جمہوریت حامی ہونے کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں ۔ اُن کی منکسر المزاجی سے متاثر ہوکر وزیراعظم نواز شریف نے انہیں سربراہ فوج مقرر کیا ہے ۔ پاکسانی ذرائع ابلاغ اور ماہرین دفاع نے تبصرہ کرتے ہوئے آج کہاکہ جنرل باجوا واضح طور پر جمہوریت حامی ہیں اور ممکن ہے کہ ان کے پاکستانی فوج کے سربراہ مقرر ہونے سے توازن قوت میں تبدیلی آئے گی ۔ فوج آزاد پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں نصف سے زیادہ مدت تک فوجی دور اقتدار میں رہ چکی ہے ‘ لیکن باجوا دیگر پاکستانی سربراہان فوج کی بہ نسبت زیادہ جمہوریت حامی ہیں ۔ کثیر الاشاعت روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے بموجب جنرل باجوا زیادہ اعتدال پسند ہیں اور منتخبہ حکومت کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ سبکدوش ہونے والے جنرل راحیل شریف نے منتخبہ حکومت اور پاکستانی فوج کے درمیان دو توازن قوت قائم کیا تھا ۔ امکان ہے کہ جنرل باجوا کے دور میں یہ تبدیل ہوجائے گا ۔ شخصی طور پر جنرل باجوا پُرمزاح ہیں ‘ اُن تک آسانی سے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ وہ فوجیوں کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں ۔ باجوا توپ خانے کے چوتھے عہدیدار ہیں جن کا تعلق بلوچستان سے ہیں جنہیں سربراہ  فوج مقرر کیا گیا ہے ۔ قبل ازیں جنرل یحییٰ خان ‘ جنرل اسلم بیگ اور جنرل کیانی کا تعلق بلوچستان سے تھا جنہیں سربراہ فوج مقرر کیا گیا تھا ۔ دریں اثناء نواز شریف کی پارٹی کے رکن سینٹ ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل عبدالقیوم نے کہا کہ فوج کے تمام عہدیداروں کی طبعیت ایک جیسی ہوتی ہے ۔ یہ وزیراعظم کا اختیار تمیزی ہے کہ وہ کسی کو بھی پاکستانی فوج کا سربراہ مقرر کرے ۔ سابق کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل سجاد غنی نے کہا کہ سربراہ فوج کے عہدہ کے چاروں امیدواروں میں زیادہ فرق نہیں ہے ۔ دریں اثناء وزیراعظم کے دفتر سے کل رات ایک صحافتی بیان میں دو اہم فوجی تقررات کا اعلان کیا گیا ۔ نواز شریف کے مشورہ پر صدر پاکستان ممنون حسین نے لیفٹننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کاسربراہ اور لیفٹننٹ جنرل قمر جاوید باجوا کو سربراہ پاکستانی فوج مقرر کرنے کی منظوری دے گی ۔

TOPPOPULARRECENT