Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کو روکنے بین الاقوامی توجہ ضروری

پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کو روکنے بین الاقوامی توجہ ضروری

نیویارک 9 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے توسیع پاتے ہوئے نیوکلئیر ہتھیاروں کے پروگرام پر روک لگانا بین الاقوامی ترجیح ہونی چاہئے ۔ نیویارک ٹائمز کے ایک اداریہ میں یہ بات کہی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کئی تخریب کار گروپس کا گھر بنا ہوا ہے جس کے نتیجہ میں پاکستان سے جنوبی ایشیا اور ساری دنیا کو جو خطرات لاحق ہیں ان میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس اداریہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تقریبا 120 جنگی ہتھیار پاکستان میں موجود ہیں اور آئندہ ایک دہے میں وہ دنیا کا تیسرے نمبر کا نیوکلئیر ملک بن جائیگا امریکہ اور روس کے بعد ۔ تاہم وہ اس معاملہ میں چین ‘ فرانس اور برطانیہ سے آگے ہوسکتا ہے ۔ اخبار میں ادعا کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ہتھیار دوسرے ملکوں کی بہ نسبت بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ حالیہ برسوں میں بہت ہلاکت خیز بھی ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے ذخائر میں چھوٹے اور موثر نیوکلئیرہتھیاروں کا اضافہ ہورہا ہے جن سے ہندوستان کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور طویل فاصلہ تک وار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے میزائیل اور بھی آگے تک پہونچ سکتے ہیں۔ اخبار نے اپنے اداریہ میں ادعا کیا ہے کہ تشویشناک حقائق ہیں۔ یہ حقیقت کہ پاکستان میں بے شمار تخریب کار گروپس موجود ہیں جن میں کچھ کو ملک کے سکیوریٹی ڈھانچہ کی بالواسطہ تائید حاصل ہے پاکستان سے جنوبی ایشیا اور ساری دنیا کو جو خطرات ہیں ان میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔ اخبار نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے نیوکلئیر ہتھیاروں کے پروگرام کو کم سے کم کرنے کی ترغیب دینا بین الاقوامی ترجیح ہونی چاہئے ۔ اخبار میں کہا گیا ہے کہ عالمی طاقتوں نے ایران کو اپنے نیوکلئیر پروگرام سے روکنے کیلئے دو سال تک بات چیت کی جبکہ اس کے پاس ایک بھی ہتھیار نہیں ہے لیکن پاکستان کے تعلق سے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے جس نے ‘ ہندوستان کے ساتھ ‘ اپنے ہتھیاروں کے پروگرام پر کسی طرح کی حد بندی پر غور تک کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ اخبار کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا ہندوستان کے ساتھ مقابلہ ایک کھیل ہے جس میں شکست ہوگی ۔ چین جیسے ممالک کو چاہئے کہ وہ پاکستان کو ترغیب دیں کہ اس حقیقت کو قبول کرلے ۔ چین پاکستان کا ایک قریبی حلیف ہے ۔ اخبار میں وزیر اعظم ہند نریندر مودی پر بھی تنقید کی گئی کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ سکیوریٹی امور پر بات چیت کرنے کی کوشش نہیں کی ہے ۔ اخبار کے بموجب موجودہ کشیدگی کیلئے ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں نیوکلئیر ہتھیاروں کی جو دوڑ چل رہی ہے وہ مزید تیز اور شدید ہوتی جا رہی ہے ۔ اس پر بین الاقوامی برادری کو فوری توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اوباما انتظآمیہ نے اس مسئلہ کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے اس سے نمٹنے کی کوششیں شروع کردی ہیں حالانکہ اس کو ابھی تک کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ اخبار نے تحریر کیا ہے کہ حال ہی میں صدر امریکہ بارک اوباما اور وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی جو ملاقات ہوئی ہے اس میں بھی اس تعلق سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ اس کے باوجود اس سمت میں کوششوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے خاص طور پر کشمیر اور دہشت گردی کے مسئلہ پر ہندوستان اور پاکستان کے مابین جاری کشیدگی کی وجہ سے ایسا کرنا ضروری ہے ۔ حال میں نواز شریف نے وائیٹ ہاوز میں اوباما سے ملاقات کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT