Monday , May 1 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان کے ٹسٹ درجہ بندی میں پانچویں مقام کو خطرہ

پاکستان کے ٹسٹ درجہ بندی میں پانچویں مقام کو خطرہ

جمائیکا ۔20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹسٹ میچوں کی سیریز میں جہاں کپتان مصباح الحق اور یونس خان کے پاس اپنا کیریئر بہترین کارکردگی کے ساتھ ختم کرنے کا نادر موقع ہے تو وہیں پاکستان کو میزبان ٹیم کے خلاف سیریز میں ٹسٹ درجہ بندی میں پانچواں مقام بچانے کا چیلنج درپیش ہے۔ ٹسٹ درجہ بندی میں پاکستان کے اظہر علی ساتویں، یونس خان آٹھویں جبکہ اسد شفیق، سرفراز احمد اور مصباح الحق بالترتیب 24، 25 اور 26ویں نمبر پر موجود ہیں۔یونس خان اپنے کیریئر میں ایک مرتبہ عالمی نمبر ایک بننے کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں اور یہ اعزاز انہوں نے فروری 2009 میں سری لنکا کے خلاف کراچی ٹسٹ میں ٹرپل سنچری بنا کر انجام دیا تھا اور 72 دن تک اس منصب پر فائز رہے تھے۔مصباح الحق نے ٹسٹ ٹیم کی قیادت ملنے کے بعد مستقل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ نومبر 2011 سے دسمبر 2016 تک مسلسل پانچ سال دنیا کے 15 بہترین بیٹسمینوں کی فہرست میں شامل رہے لیکن حالیہ دنوں میں ناقص کارکردگی کی وجہ سے ٹیم کے کپتان کو اپنی ٹسٹ درجہ بندی میں تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ 26ویں نمبر پر پہنچ گئے تاہم ویسٹ انڈیز کی نسبتاً ناتجربہ کار ٹیم کے خلاف اچھی کارکردگی دکھا کر یونس اور مصباح دونوں ہی اپنی وداعی سیریز کو یادگار بنا سکتے ہیں۔یونس خان اور مصباح الحق دونوں ہی ٹسٹ کرکٹ سے سبکدوشی کا اعلان کر چکے ہیں اور ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹسٹ میچوں کی سیریز ان کے کیریئر کی آخری سیریز ہو گی۔پاکستان کیلئے یہ سیریز انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ٹور میچ میں مکمل طور پر ناکام رہنے والی ٹیم کو سیریز میں عمدہ کارکردگی دکھانے اور ٹسٹ درجہ بندی میں پانچواں نمبر بچانے کا چیلنج درپیش ہے۔پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ٹسٹ سیریز 2-2 سے ڈرا کر کے عالمی نمبر ایک ٹیم بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا لیکن اس کے بعد آٹھ میں سے چھ ٹسٹ میچوں میں شکست کے سبب اس کی ٹسٹ درجہ بندی میں گراوٹ آئی ہے۔پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز 2-1 سے جیتی لیکن پھر نیوزی لینڈ نے 2-0 اور ان کے پڑوسی ٹیم آسٹریلیا نے 3-0 سے کلین سوئپ کر کے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں 3-0 سے فتح کی صورت میں 97 نشانات کے ساتھ پانچویں نمبر پر موجود پاکستانی ٹیم دو نشانات حاصل کر کے اپنا مقام برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گی جبکہ ویسٹ انڈیز کے نشانات مزید کم ہو جائیں گے۔سیریز میں 2-0 سے فتح کی صورت میں ایک پوائنٹ ملے گا اور ویسٹ انڈیز کو ایک پوائنٹ گنوانا پڑ جائے گا۔اگر پاکستان 1-0 یا  2-1 جیتنے میں کامیاب رہتے ہیں تو پاکستان کے موجودہ نشانات برقرار رہیں گے لیکن ویسٹ انڈیز کو ایک پوائنٹ مل جائے گا۔اگر ویسٹ انڈیز 3-0 سے کلین سوئپ کرتا ہے تو پاکستان کے آٹھ پوائنٹ کم ہو جائیں گے اور ویسٹ انڈیز کی  ٹیم کو اتنے ہی نشانات مل جائیں گے جبکہ 2-0 سے فتح میزبان ٹیم کے نشانات 77 اور پاکستان کے 91 کر دے گی۔ویسٹ انڈیز 1-0 یا 2-1 سے سیریز جیتنے میں کامیاب رہا تو پاکستان کے پانچ پوائنٹس کم ہو جائیں گے جبکہ ویسٹ انڈیز کو چھ پوائنٹس بطور انعام ملیں گے۔ٹیموں کی درجہ بندی میں ہندوستان پہلے، جنوبی افریقہ دوسرے، آسٹریلیا تیسرے، انگلینڈ چوتھے، پاکستان پانچویں، نیوزی لینڈ چھٹے، سری لنکا ساتویں، ویسٹ انڈیز آٹھویں، بنگلہ دیش نویں اور زمبابوے دسویں نمبر پر موجود ہیں۔بولرروں کی عالمی درجہ بندی میں ہندوستان کے رویندرا جڈیجہ پہلے، روی چندرن اشون دوسرے، رنگنا ہیراتھ تیسرے، جوش ہیزل ووڈ چوتھے، جیمز اینڈرسن پانچویں، اسٹورٹ براڈ چھٹے، کگیسو ربادا ساتویں، ڈیل اسٹین آٹھویں، نیل ویگنر نویں اور مچل اسٹارک دسویں نمبر پر موجود ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT