Saturday , August 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / پاکیزہ معاشرہ کیلئے آخرت میں جوابدہی کا احساس ضروری

پاکیزہ معاشرہ کیلئے آخرت میں جوابدہی کا احساس ضروری

ورنگل ۔’’روز محشر اللہ تعالی مکمل جلال اور غضب کے ساتھ جلوہ فگن ہوگا اور ہر انسان کا خود حساب لے گا ۔درمیان میں نہ کوئی پردہ حائل ہوگا اور نہ ترجمان کی ضرورت ہو گی ۔آج جس طرح دو آدمی آپس میں آمنے سامنے بات کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالی بھی قیامت کے دن ہر بندے سے دو بدو اور آمنے سامنے بات کرے گا۔وہاں اللہ کا جلال اور غضب ہوگا ‘وہ اپنی عظمت اور ہیبت کے ساتھ جلوہ افروز ہوگا ‘میدان حشر کا لرزہ خیز منظر اور پھر خدا کا اس طرح جلا ل دیکھ کر انسان کانپ اٹھے گا اور اپنی مدد کے لئے دائیں بائیں دیکھے گا مگر وہاں اس کا صرف وہ عمل دکھائی دے گا جو اس نے دنیا میں کیا ہے اور نامۂ اعمال میں جمع ہے ‘سامنے جہنم کا عذاب ہوگا ۔اس وقت عذاب سے بچنے کے لئے صرف اس کا عمل ہو گا‘وہ اندر ہی اندر سوچ رہا ہوگا کہ اے کاش !دنیا میں رہ کر اور کچھ عمل کا ذخیرہ جمع کر لیا ہوتا تو آج ناکامی نہ ہوتی ‘‘۔ ان خیالات کا اظہار مفتی تنظیم عالم قاسمی استاذ حدیث دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد نے جامعۃ الصفہ ورنگل میں طلبہ و اساتذہ پر مشتمل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوے کیا۔انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن ہر شخص کو دنیا میں اس وقت کے گذرنے پر افسوس ہوگا جو ذکر الٰہی سے خالی رہ گیا ہے ‘اس لئے کہ ایک شخص اگر پیدا ہونے کے بعد سے موت تک صرف عبادت اور نماز میں گذار دے تو بھی قیامت کے دن اسے وہ شخص کمتر سمجھے گا اور خواہش ہوگی کہ میرا نامۂ اعمال اور نیکیوں سے پر ہوتا۔مختلف احادیث میں رسول اکرم ﷺ نے پوری امت کو ہدایت دی ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت میں مست مت ہوجاؤ بلکہ یاد رکھو کہ تمہیں اپنے رب کے پاس کھڑا ہونا ہے اور ایک ایک عمل کا جواب بھی دینا ہے ۔وہاں کے عذاب سے عمل کے سوا کوئی چیز نہیں بچائے گی اس لئے جس کوجہنم کے عذاب اور قیامت کی ہولناکیوں سے بچنا ہو وہ آج ہی اس کا سامان تیار کرلے خواہ چھوٹی سے چھوٹی چیز کے ذریعے ہی کیوں نہ ہویعنی جس کو جو میسر ہو وہ اس سے بچنے کی کوشش کرے ‘کھجور کا ایک ٹکڑا بھی اگر میسر ہے اسے ہی اللہ کے راستے میں دے کر یا کسی سے کوئی کلمۂ خیر کہہکر یا دیگر اعمال صالحہ کے ذریعے۔آج عمل کا موقع ہے حساب نہیں اور کل حساب ہوگا عمل کا موقع نہیں ہوگا‘وہاں تمنا ہوگی مگر اس کا کچھ حاصل نہ ہوگا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج آخرت پر ایمان کا دھندلا سا تصور باقی رہ گیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر طرف برائیوں اور ظلم و زیادتی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ‘جب تک لوگوں میں مرنے کے بعد عنداللہ جواب دہی کا احساس نہیں ہو گا پاکیزہ معاشرے کی تشکیل نہیں ہو سکتی۔زمانہ جاہلیت میں ساری برائیاں موجود تھیںلیکن جب انہیں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا یقین ہوا تو وہ ایسے پاکباز ثابت ہوئے کہ انبیا کے علاوہ تاریخ انسانیت میں ان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اخیر میں مفتی تنظیم عالم قاسمی نے دعا کی۔

TOPPOPULARRECENT