Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / پراجکٹ ورک کے نام پر انجینئرنگ طلبہ کو لوٹا جارہا ہے

پراجکٹ ورک کے نام پر انجینئرنگ طلبہ کو لوٹا جارہا ہے

دس کروڑ روپے بٹور لئے گئے، متعلقہ حکام سے نمائندگی بے اثر
حیدرآباد 16 اپریل (سیاست نیوز) انجینئرنگ کالجس کے مینجمنٹس مبینہ طور پر قواعد کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے فائنل ایر کے طلبہ سے پراجکٹ ورک کے نام پر بھاری رقومات وصول کررہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ان کالجس نے طلبہ سے تقریباً دس کروڑ روپے بٹور لئے ہیں۔ قاعدہ کے تحت چوتھے سال کے انجینئرنگ طلبہ کو پراجکٹ مکمل کرنا اور متعلقہ شعبہ جات کو رپورٹ کرنا ہوتا ہے۔ صدر شعبہ جات رپورٹ کا جائزہ لیتے ہیں اور نمبرات دیتے ہیں۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پراجکٹ کی نوعیت کے اعتبار سے کالجس تین ہزار تا 13 ہزار روپے فی کس وصول کررہے ہیں۔ بعض کالجس میں رقم وصولی کی رسید دی گئی۔ چند دوسرے کالجس طلبہ کی فہرست بناکر ادائیگی کے کام میں ان کے دستخط لے رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بات جے این ٹی یو اور صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ کونسل برائے اعلیٰ تعلیم اور محکمہ تعلیم کے اسپیشل چیف سکریٹری کے علم میں لائی گئی ہے لیکن اب تک اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس دوران بعض طلبہ نے گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے نمائندگی کی ہے اور ان سے اس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔ کالجس کے انتظامیہ نے کہاکہ طلبہ کو کالج میں پراجکٹ ورک کی اجازت دی گئی ہے اور اس کے لئے میٹریل مہیا کیا گیا ہے لیکن طلبہ کا کہنا ہے کہ ادا کی گئی فیس میں اس کے اخراجات شامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT