Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / پرامن بقائے باہم پر پنڈت نہرو کا پیغام دائمی اہمیت و افادیت کا حامل

پرامن بقائے باہم پر پنڈت نہرو کا پیغام دائمی اہمیت و افادیت کا حامل

مذہب کسی مملکت کی بنیاد نہیں ہونا چاہئے، ہندوستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں صدر جمہوریہ کا ریمارک
صدر جمہوریہ کے خصوصی طیارے سے ۔ 16 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر جمہوری پرنب مکرجی نے ملک کے پہلے وزیر اعظم کی وراثت کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات کے تناظر میں ریمارک کیا کہ بقائے باہم کے لئے پنڈت جواہر لال نہرو کا پیام دائمی ہم آہنگی کا حامل ہے اور کوئی وقت کی قید نہیں رکھتا۔ صدر جمہوریہ نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سے نئی دہلی کو واپسی کے دوران اپنے خصوصی طیارے میں صحیفہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’بعض پیامات اور اصول ایک انتہائی طویل عرصہ تک اہمیت و افادیت رکھتے ہیں اور بقائے باہم ایک ایسا پیغام اور دائمی اہمیت و افادیت کا حامل ہے اور کسی وقت یا مدت تک محدود نہیں ہے۔‘‘ صدر پرنب مکرجی، نہرو کے نظریات کی اہمیت و افادیت سے متعلق سوالات کا جواب دے رہے تھے جس میں ہندوستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بقائے باہم پر خصوصی سوال کیا گیا تھا۔ صدر پرنب مکرجی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردن، فلسطین اور اسرائیل کے چھ روزہ دورے کے دوران متعلقہ ملکوں کے قائدین سے بات چیت کے موقع پر بھی انہوں نے پرامن بقائے باہم کے اصولوں پر تبادلہ خیال کیا۔

صدر جمہوریہ سے اسرائیل میں کئے گئے ان کے ان ریمارکس کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ مذہب کو کسی مملکت کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہئے۔ ایک صحیفہ نگار نے ان سے کہا کہ اسرائیل اور پاکستان مذہبی بنیادوں پر قائم ہیں جس پر صدر جمہوریہ نے جواب دیا کہ ’’میں نے کہا تھا کہ مذہب کسی مملکت کی بنیاد نہیں ہونا چاہئے، مثلاً کئی عرب ممالک میں جہاں اسلام سب سے بڑا مذہب ہے لیکن مذہب کی بنیاد پر تمام عرب ممالک ایک مملکت کے طور پر یکجا نہیں ہوسکے‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی 1947 ء میں مذہب کی بنیاد پر ہندوستان سے الگ ہوکر وجود میں آیا اور 25 سال بعد پاکستان کا ایک بڑا حصہ اس سے علیحدہ ہوکر خود مختار مملکت (بنگلہ دیش) بن گیا۔‘‘ صدر مکرجی نے وضاحت کی کہ انہوں نے اسرائیلی ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران یہ ریمارک کیا تھا کہ مذہبی بنیادوں پر مملکت قائم نہیں کی جانی چاہئے۔ ان سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ اسرائیل اور فلسطین تصادم پر انہوں نے راست تبصرہ کیوں نہیں کیا۔ واضح رہے کہ ’فلسطینی دہشت گردی‘ کی مذمت نہ کرنے پر اسرائیل میں صدر ہند پر تنقید بھی کی گئی تھی۔ پرنب مکرجی نے ایک ایسے وقت اس علاقہ کا دورہ کیا تھا

جب وہاں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ ایک سوال پر جواب دیا کہ ’’میں جانتا ہوں کہ مختلف ممالک سے مختلف نوعیت کے تعلقات ہوا کرتے ہیں اور یہ کسی دوسرے ملک کا کام نہیں ہوتا کہ وہ ایسے مسائل پر تبصرہ کرے ۔ یہ ایک بین الاقوامی سفارتکاری اور خیرسگالی ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان نے 23 سال قبل اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں لایا لیکن فلسطین کے مسئلہ پر اپنا اصولی موقف بدستور برقرار رکھا۔ صدر نے کہا کہ اسرائیلی اور فلسطینی قائدین کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران انہوں نے یہ احساس پایا کہ دونوں فریق تمام باہمی مسائل کو حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سہ ملکی دورے سے ان کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملی ہے۔ میں اس یقین کے ساتھ واپس ہوا ہوں کہ تینوں ممالک اردن، فلسطین اور اسرائیل ہندوستان کے ساتھ اعلی سطحی تعلقات سے نمایاں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہندوستان ان ممالک کے ساتھ ساجھیداری میں اضافہ اور سرگرمی کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہے۔

TOPPOPULARRECENT