Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانا شہر حیدرآباد میں پاسپورٹ سیوا کیندر کے قیام پر حکومت کی عدم توجہ

پرانا شہر حیدرآباد میں پاسپورٹ سیوا کیندر کے قیام پر حکومت کی عدم توجہ

سعودی قونصل خانہ کے قیام پر گہری دلچسپی ، پرانے شہر سے سرکاری خدمات کا عملاً خاتمہ
حیدرآباد۔9۔جنوری (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے حیدرآباد میں سعودی قونصل خانہ کے آغاز کے متعلق متعدد مرتبہ اعلانات کئے جا چکے ہیں اور اس میں تاخیر بجا ہے کیونکہ یہ دو ممالک کے درمیان اور ان کے وزارت خارجہ کی منظوریوں کے بعد ہی ممکن ہے لیکن صرف ہندستانی وزارت خارجہ سے نمائندگی کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے پرانے شہر میں پاسپورٹ سیوا کیندر قائم کروایا جا سکتا ہے اور یہ مسئلہ صرف ریاست و مرکز کے مابین تعلقات اور مرکزی وزارت خارجہ پر منحصر ہے اس کیلئے کسی دوسرے ملک کی وزارت خارجہ سے منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پرانے شہر کے عوام کو سہولت پہنچانے کیلئے عرصہ دراز سے پاسپورٹ سیوا کیندر کے آغاز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن اس سلسلہ میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں کی گئی بلکہ ہر مرتبہ سعودی عرب کے قونصل خانہ کو جذباتی مسئلہ کی طرح پیش کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے شہر میں سعودی قونصل خانہ کے آغاز کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن سعودی قونصل خانہ سے زیادہ فی الحال پرانے شہر میں پاسپورٹ سیوا کیندر کی ضرورت ہے کیونکہ شہر تیزی سے وسعت حاصل کرتا جا رہا ہے اور شہر میں موجود پاسپورٹ سیوا کیندر پرانے شہر کے عوام کیلئے کافی مسافت پر ہیں۔ پرانا شہر جو مسلم اقلیتی غالب والا علاقہ تصور کیا جاتا ہے اس علاقہ میں بینک اور اے ٹی ایم کی خدمات گذشتہ دنوں کافی موضوع بحث بنی رہی اور یہ استفسار بھی کیا گیا اس خطہ کی نمائندگی کرنے والوں نے بینک اور اے ٹی ایم کی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کتنی مرتبہ نمائندگیاں کی ؟ شہر کے اس خطہ میں موجود سرکاری سہولتیں بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہیں اور ان کا رخ نئے شہر کی طرف منتقل ہوتا جا رہا ہے جس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں جن میں سب سے اہم حیدرآباد پولیس کمشنریٹ اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے دفاتر ہیں ۔ سابق میں پرانے شہر میں پاسپورٹ کے درخواست کے ادخال کی سہولت حاصل تھی لیکن عرصہ بیت چکا ہے کہ اس سہولت کو ختم کردیا گیا لیکن اس کے بعد سے اب تک پرانے شہر کے عوام کو شہر کے مرکزی مقام پر پاسپورٹ کے ادخال کی سہولت فراہم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ ان کے اس مطالبہ کو نظر انداز کیا جا تا رہا ہے۔قومی سطح پر پارلیمانی حلقہ حیدرآباد کئی وجوہات کی بناء پر موضوع بحث بنا رہتا ہے لیکن یہ اس پارلیمانی حلقہ کی بد قسمتی ہے کہ کم و بیش 17لاکھ رائے دہندوں پر مشتمل اس پارلیمانی حلقہ میں ایک بھی پاسپورٹ سیوا کیندر موجود نہیں ہے اور پڑوسی پارلیمانی حلقہ سکندرآباد میں کئی پاسپورٹ سیوا کیندر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ حلقہ پارلیمان حیدرآباد کے حدود میں آنے والے اسمبلی حلقہ جات میں ملک پیٹ‘ چارمینار‘ یاقوت پورہ‘ کاروان‘ بہادر پورہ‘ گوشہ محل اور چندرائن گٹہ شامل ہیں لیکن ان تمام سات اسمبلی حلقوں میں کوئی پاسپورٹ سیوا کیندر یا منی پاسپورٹ سیوا کیندر موجود نہیں ہے۔ ریاستی حکومت اور منتخبہ نمائندوں کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں مرکزی وزارت خارجہ سے مؤثر نمائندگی کے ذریعہ ان علاقوں میں پاسپورٹ سیوا کیندر کے آغاز کو یقینی بنائیں کیونکہ اس کا راست فائدہ شہر کے عوام کو ہوگا اور انہیں پارلیمانی حلقہ سکندرآباد میں موجود بیگم پیٹ‘ امیر پیٹ ‘ ٹولی چوکی کے پاسپورٹ سیوا کیندر میں قطار میں ٹھہرنا نہیں پڑے گا بلکہ انہیں ان کے اپنے علاقوں میں پاسپورٹ کی درخواست داخل کرنے کی سہولت میسر آجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT