Saturday , May 27 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانا پل کی صورتحال انتہائی ابتر ، فٹ پاتھ پر تاجرین کا غلبہ ، بلدیہ خواب غفلت میں

پرانا پل کی صورتحال انتہائی ابتر ، فٹ پاتھ پر تاجرین کا غلبہ ، بلدیہ خواب غفلت میں

چارمینار کے قریب ٹھیلہ بنڈی رانوں کے خلاف سخت کارروائی سے حکومت کی جانبداری کا اظہار
حیدرآباد۔15فروری(سیاست نیوز) محکمہ آثار قدیمہ ‘ محکمہ ٹریفک پولیس کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو تاریخی چارمینار کے اطراف کے علاقو ںمیں تجارت کرنے والے ٹھیلہ بنڈی رانوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے متعدد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے لیکن یہ مستعدی محکمہ آثار قدیمہ‘ محکمہ ٹریفک پولیس اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے تاریخی پرانا پل کے تحفظ کیلئے نہیں دکھائی جاتی جبکہ پرانا پل کی تاریخ بھی کم و بیش اتنی ہے ہے جتنی چارمینار کی تاریخ ہے۔ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کے متعلق متعدد اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن پرانا پل کی جانب حکومت کی جانب سے کوئی توجہ مرکوز کی جاتی ہے اور نہ ہی حکومت کی اس جانب توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ پرانے پل کی حالت شہر کے ان چند تاریخی مقامات میں ہے جو انتہائی ابتر صورتحال کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد کے 400سالہ جشن کے دوران پرانے شہر کے تاریخی عمارتوں کے ساتھ پرانا پل کو بھی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا جو کہ قطب شاہی دور کی تعمیر ہے لیکن آج سبزی منڈی میں تبدیل ہوچکے اس پل پر موجود قابضین اس تاریخی پل کی اہمیت کو تباہ کرتے جا رہے ہیں جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ پرانا پل جسے سابق آئی اے ایس عہدیدار جناب کشن راؤ نے پیارانہ پل قرار دیتے ہوئے اس پر موجود قبضہ جات کو برخواست کرواتے ہوئے اس کی خوبصورتی کو دوبالاکرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا وہ آج اس پل کی حالت پر افسوس کر رہے ہیں۔ پرانا پل پر کئے گئے قبضوں کو برخواست کروانے کے بجائے اس تاریخی پل پر موجود قابضین کو تحفظ کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ تاریخی مقامات کے تحفظ کے نام پر تاریخی مقامات کے قرب و جوار میں رہنے والے شہریوں کو تعمیرات سے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے روکا جاتا ہے لیکن جب تاریخی عمارت کو ہی قبضوں کا شکار بناتے ہوئے اس پر ناجائز تعمیرات کی جانے لگیں تو اس پر خاموشی اختیار کرنے والے عہدیداروں کی مجرمانہ غفلت پر ان کے خلاف کیوں کاروائی نہیں کی جاتی؟پرانے شہر میں موجود پرانا پل اپنی ترایخی اہمیت کھوتا جا رہا ہے اور اس کی تاریخی اہمیت کی بحالی کیلئے یہ ضروری ہے کہ پرانا پل پر کئے جانے والے قبضوں کو برخواست کرتے ہوئے اسے سیاحتی مقام کی حیثیت سے فروغ دیا جائے کیونکہ یہ برج جو موسی ندی پر تعمیر کیا گیا ہے وہ شہر حیدرآباد کے سنگ بنیاد میں انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل برج ہے ۔ پرانا پل پر کئے گئے قبضہ جات کی برخواستگی کے ذریعہ اس پل کو تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ موسی ندی میں پھیل رہی گندگی کو بھی دور کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس برج پر موجود قابضین تجارت کے باقیات کو برج سے نیچے ندی میں پھینک دیتے ہیں اور یہ کچہرا ندی میں تعفن و مچھروں کی افزائش میں کلیدی رول ادا کرتا ہے۔پرانا پل سے قبضوں کی برخواستگی کو مقامی عوام کے علاوہ تہذیبی ورثہ کے تحفظ و تاریخی مقامات کی بقاء کیلئے جدو جہد کرنے والے جہد کاروں نے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جی ایچ ایم سی اور محکمہ ٹریفک پولیس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فوری اس برج پر موجود قبضہ جات کو برخواست کرواتے ہوئے اسے محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کرے تاکہ اس کی تزئین نو اور آہک پاشی کے ساتھ تحفظ کے اقدامات کو ممکن بنایا جا سکے۔ پرانا پل کے تحفظ کیلئے نمائندگی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ اب مایوس ہو چکے ہیںکیونکہ متعدد شکایات کے باوجود بعض بدعنوان عہدیداروں کے سبب اس تاریخی پل پر قبضوں میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور بھاری معمول ادا کرتے ہوئے اس برج پر لوگ تجارتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں ساتھ ہی ان تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کیلئے غیر مجاز مذہبی تعمیرات جاری ہیں جو کہ ان تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کی ضمانت ثابت ہوں گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT