Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر تو کیا نئے شہر میں بھی کئی مسائل، منتخبہ نمائندوں کی کارکردگی غیر اطمینان بخش

پرانے شہر تو کیا نئے شہر میں بھی کئی مسائل، منتخبہ نمائندوں کی کارکردگی غیر اطمینان بخش

متعدد وعدے وفا نہ ہوسکے، علاقہ واری سطح پر بنیادی سہولتوں کا فقدان
حیدرآباد۔10جنوری ( سیاست نیوز)  پرانے شہر کے عوام ہی مسائل کا شکار نہیں ہیں بلکہ نئے شہر کے بھی کئی علاقوں میں عوام منتخبہ عوامی نمائندوں کی عدم کارکردگی کے سبب مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں لیکن اُن کی سنوائی کیلئے نہ کوئی عہدیدار تیار ہیں اور نہ ہی کوئی منتخبہ  نمائندے مسائل کے حل پر توجہ مبذول کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں عوام بحالت مجبوری تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زندگی گذار رہے ہیں ۔ پرانے شہر کے بلدی حلقوں کی جو حالت ہے اگر اُس کا نئے شہر کے بلدی حلقوں سے تقابل کیا جائے تو کچھ حد تک نئے شہر کے بلدی حلقوں کی حالت بہتر نظر آئے گی لیکن  نئے شہر کو جو بنیادی سہولیات حاصل ہونی چاہیئے اُن میں بھی کافی کمی رہ گئی ہے اور نئے شہر کے بلدی حلقہ جات وجئے نگر کالونی ‘ احمد نگر ‘ ریڈ ہلز ‘ ملے پلی اور آصف نگر کے عوام بھی پرانے شہر کے عوام کی طرح مسائل کا سامنا کررہے ہیں ۔ کئی حلقوں میں عوام کی بڑی تعداد منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے ترقیاتی کاموں میں عدم دلچسپی کے سبب اُن سے ناراض ہیں یا پھر اُن میں اس بات کا احساس پیدا ہوچلا ہے کہ رائے دہندوں کی جانب سے کئے گئے غلط انتخاب کی سزا وہ بھگت رہے ہیں ۔ بلدی حلقہ  وجئے نگر کالونی میں جملہ 48,778 رائے دہندے موجود ہیں جن میں 25,983مرد اور 22,795 خواتین شامل ہیں ۔ یہ بلدی حلقہ جو کہ جی او ایم ایس نمبر 25 کے مطابق بی سی خاتون کے زمرہ میں محفوظ کیا گیا ہے ‘ اس کے مسائل میں سب سے اہم مسئلہ ڈرینج کا پانی سڑکوں پر بہنے کا ہے ‘ علاوہ ازیں وجئے نگر کالونی چوراہے پر بارش کے ساتھ ہی گھٹنوں تک پانی جمع ہونے کی شکایت ہے جسے دور کرنے کا متعدد مرتبہ وعدہ کیا گیا لیکن یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے ۔ وجئے نگر کالونی سے این  ایم ڈی سی جانے والی سڑک پر مسلسل ڈرینج کا پانی بہنے کی شکایت کا علاوہ اطراف کے علاقوں میں سربراہی آب کا مسئلہ بھی عوام کو پریشان کئے ہوئے ہے ۔ قابل اور تعلیم یافتہ رائے دہندوں پر مشتمل اس بلدی حلقہ میں عوامی ناراضگی کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے لیکن عوام ان مسائل کے حل کیلئے مدت مقرر کرنے کا مطالبہ شروع کرچکے ہیں ۔ ریڈ ہلز بلدی حلقہ کے عوام 12ماہ میں 9ماہ سے زائد  سربراہی آب کے مسائل کی شکایت کرتے ہیں لیکن ان مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ صرف تیقنات ہی دیئے گئے جب کہ اس بلدی حلقہ کے رائے دہندوں نے متحدہ طور پر ترقیاتی ایجنڈہ کے تحت اپنے امیدوار منتخب کئے تھے ۔ ریڈ ہلز بلدی حلقہ میں 45,962 رائے دہندے ہیں جن میں 23,703 مرد اور 22,257خاتون رائے دہندے شامل ہیں ۔ اس بلدی حلقہ کو بھی بی سی خاتون کیلئے محفوظ قرار دیا گیا ہے ۔ اس مرتبہ توقع ہے کہ اس حلقہ کی نمائندگی کو تبدیل کرنے کیلئے رائے دہندوں کی جانب سے دباؤ ڈالا جائے گا تاکہ گذشتہ 10برسوں کے دوران جو کام التواء کا شکار رہے ہیں اُن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے ۔ اس علاقہ میں سڑکوں کی تعمیر ہوئے بھی ایک عرصہ گذر چکا ہے لیکن اس مسئلہ پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ بلدی حلقہ ملے پلی جہاں 43,848 رائے دہندے ہیں ان میں 22,895مرد اور 20,941خاتون رائے دہندے شامل ہیں ۔  یہ حلقہ بھی اس مرتبہ بی سی خاتون کیلئے محفوظ قرار دیا گیا ہے اور اس حلقہ سے بھی نمائندگی یقینی طور پر تبدیل ہوگی لیکن گذشتہ 10برسوں سے دوران بھی اس علاقہ کے مسائل حل نہیں ہوپائے ہیں ۔ اس علاقہ میں جو سب سے بڑے ترقیاتی کام کے نام پر آغاپورہ نالے کی کشادگی عمل میں آئی جب کہ بلدی حلقہ ملے پلی میں کئی مسائل ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر حل کیا جانا ضروری ہے ۔ حبیب نگر  کے علاوہ آغاپورہ کے اطراف کے علاقوں میں جہاں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہیں اُن علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے جو وعدے کئے گئے تھے وہ عملی اعتبار سے وفا نہیں ہوپائے لیکن ایک مرتبہ پھر وعدوں کے موسم میں بلدی حلقہ میں کروڑہا روپیوں کے ترقیاتی کاموں کے آغاز کے دعوے شروع کئے جاچکے ہیں ۔ مقامی رائے دہندوں کا کہنا ہے کہ منتخبہ نمائندوں کے عدم رابطہ کے سبب رائے دہندے اپنے مسائل کو حل کروانے سے قاصر ہیں ۔ اسی لئے اس علاقہ کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ کسی حرکیاتی اور قابل شخص کو بلدی انتخابات میں امیدوار بناتے ہوئے کامیاب بنایا جائے چونکہ اس علاقہ میں جو مسائل ہیں اُن کے حل کیلئے سنجیدہ شخص کی ضرورت ہے ۔ بلدی حلقہ احمد نگر میں جہاں 49,135 رائے دہندے ہیں اُن میں 27,144مرد اور 21,991 خاتون رائے دہندے ہیں یہ حلقہ بھی بی سی خاتون کے زمرہ میں محفوظ قرار دیا گیا ہے ۔ سابق میں احمد نگر کے ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں کئی وعدے کئے گئے لیکن ان میں کوئی وعدہ وفا نہیں ہوپایا بلکہ اس بلدی حلقہ سے متصل شراب خانے کا مسئلہ انتہائی حساس نوعیت اختیار کرگیا تھا اور اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ منگل ہاٹ احمد نگر بلدی حلقہ کی سرحد پر موجود اس شراب خانہ کی منتقلی کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوپایا ۔ احمد نگر بلدی حلقہ میں جو وعدہ وفا نہیں ہوئے ان کی فہرست طویل ہے لیکن احمد نگر کے عوام بلدی حلقہ میں موجود سلم علاقوں میں فی الفور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ علاقہ کے مکینوں کے لئے پارک کی سہولت کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ آصف نگر بلدی حلقہ جو کہ شہر کے اہم بلدی حلقوں میں شمار کیا جاتا ہے میں جملہ 47,344 رائے دہندے ہیں ۔ جن میں 25,372 مرد اور 21,968 خاتون رائے دہندے شامل ہیں ۔ بلدی حلقہ آصف نگر کو بھی بی سی خاتون کے زمرہ میں محفوظ قرار دیا گیا ہے ۔ اس حلقہ سے منتخب ہونے والے نمائندوں نے عوامی توقعات کو پورا کرنے کے جو وعدے کئے تھے انہیں وہ نبھا نہیں سکے ۔ مقامی عوام بالخصوص نوجوان رائے دہندوں کا احساس ہے کہ بلدی حلقہ کو محفوظ قرار دیئے جانے کے بعد مزید مسائل پیدا ہوں گے اور منتخبہ نمائندے سے رائے دہندوں کا راست رابطہ نہ ہونے کے سبب علاقہ کے مسائل میں اضافہ ہوگا ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی 50فیصد نشستوں کو خواتین کیلئے محفوظ قرار دیئے جانے کے بعد سیاسی جماعتوں کے ساتھ عوام میں بھی مختلف خدشات پیدا ہوچکے ہیں چونکہ بیشتر سیاسی جماعتوں کے کارکن خود کو بطور نمائندہ کارپوریٹر پیش کرتے ہوئے منتخبہ نمائندہ سے راست رابطے کی راہیں منقطع کرنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے مسائل کے متعلق منتخبہ عوامی نمائندے سے گفت و شنید کا موقع میسر نہیں آتا اور نمائندہ کارپوریٹر اپنی مرضی کے مطابق علاقہ کی ترقی یا کچھ اور معاملات کرنے لگتے ہیں جس کے اثرات ترقیاتی اُمور پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT