Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / پرانے شہر حیدرآباد میں عوام ترقی و تبدیلی کے خواہاں

پرانے شہر حیدرآباد میں عوام ترقی و تبدیلی کے خواہاں

Congress Candidates from Mohammed Ghouse(SHAH? ?ALI? ??BANDA), SMT. PARVEEN SULTANA(GHANSI BAZAR WARD NO 49 ) pose for a photograph with Mohammed Ali Shabbir MLC leaders of the Opposition in Council in back drop of the historic Charminar during their padyatra and door to door campaign in old city of Hyderabad on Wednesday. Pic:Style photo service.

مجلس اہم رکاوٹ ، کانگریس کی انتخابی مہم کا زورو شور سے آغاز ، ایم ایل سی محمد علی شبیر کا خطاب

حیدرآباد۔/20جنوری، (سیاست نیوز) پرانے شہر کے مرکزی علاقوں میں کانگریس نے اپنی انتخابی مہم کا زور وشور کے ساتھ آغاز کردیا۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر کی نگرانی میں شروع کردہ انتخابی مہم پر پرانے شہر میں عوام نے زبردست ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریسی قائدین کا خیرمقدم کیا اور کئی مقامات پر کانگریسی قائدین و امیدواروں کی بکثرت گلپوشی کرتے ہوئے امیدواروں کو کامیاب بنانے کی یقین دہانی کروائی گئی۔ محمد علی شبیر نے آج پرانے شہر کے بلدی حلقہ جات شاہ علی بنڈہ، دودھ باؤلی، پرانا پل اور گھانسی بازار کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے خطاب کیا اور کانگریس امیدواروں کو کامیاب بناتے ہوئے پرانے شہر کی ترقی کی راہ ہموار کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ کانگریسی امیدوار جناب محمد غوث ( پرانا پل )، جناب معراج محمد ( دودھ باؤلی) ، محترمہ پروین سلطانہ ( گھانسی بازار ) ، محمد سہیل ( شاہ علی بنڈہ )، جناب عوض عفاری ( جنگم میٹ ) کے علاوہ سینئر کانگریس قائدین جناب شیخ عبداللہ سہیل، جناب سید نظام الدین اور دیگر موجود تھے۔ جناب محمد علی شبیر نے اس موقع پر مختلف مقامات پر عوام سے خطاب کے دوران گزشتہ کئی برسوں سے پرانے شہر کے بلدی حلقوں پر قابض مجلسی قائدین کی جانب سے ترقی کو نظر انداز کئے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہر مرتبہ مجلس نے پرانے شہر کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسئلہ خواہ شہر کی سڑکوں کی توسیع کا ہو یا پھر میٹرو ریل کا ہو مجلس ہر معاملہ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے پرانے شہر کو ترقی سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ شہر حیدرآباد کی تہذیب و تمدن درحقیقت پرانے شہر میں ہی موجود ہے لیکن پرانے شہر کو اس قدر بدنام کرنے کی کوشش مجلس کی جانب سے کی گئی ہے کہ لوگ پرانے شہر کے نام سے خوفزدہ ہونے لگتے ہیں جبکہ حقیقت بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کو پسماندہ رکھتے ہوئے شہریوں کی پسماندگی میں اضافہ کی جو کوشش کی گئی ہے اب تک مجلس کو اس میں کامیابی حاصل ہوتی رہی لیکن اب کانگریس کی سیکولراز کے تحفظ، ترقیاتی منصوبے اور حیدرآباد کی تہذیبی روایات کی برقراری کیلئے پرانے شہر میں قدم رکھا ہے تو کانگریس کو امید ہے کہ پرانے شہر کے عوام تبدیلی اور ترقی کی راہ میں محنت و مشقت کے ذریعہ کانگریسی امیدواروں کو کامیاب بنائیں گے۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میںکانگریس اور مجلس کے درمیان اتحاد کے سبب  کانگریس نے مجلس پر اعتماد کرتے ہوئے لاکھوں کروڑ روپئے شہر کی ترقی کیلئے مختص کئے اور پرانے شہر کی خصوصی ترقی کیلئے 2000کروڑ روپئے کا پیاکیج فراہم کیا گیا لیکن آج شہر کی گلیوں میں دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ان 2ہزار کروڑ سے کوئی کام انجام نہیں دیئے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر کی ترقی کیلئے فراہم کردہ دو ہزار کروڑ روپئے سے جو ترقیاتی کام ہونے تھے ان کے متعلق کانگریس جلد جائزہ لے گی اور حقائق کو منظر عام پر لائے گی کہ حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے 2ہزار کروڑ کہاں گئے ہیں۔ قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل نے بتایا کہ پرانے شہر کے عوام کو پسماندہ بناتے ہوئے پرانے شہر کے نام نہاد منتخبہ عوامی نمائندے متمول ترین اشخاص کی فہرست میں شامل ہوتے جارہے ہیں لیکن اب تک ان سے کوئی سوال کرنے والا نہیں تھا مگر اب کانگریس ہر گلی میں مجلس کا مقابلہ کرنے تیار ہوچکی ہے۔ محمد علی شبیر نے اردو اسکولوں کی حالت زار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے مجلس پر بھروسہ کرتے ہوئے پرانے شہر کو مجلس کے حوالے کررکھا تھا لیکن مجلس نے شہر کے اس اہم ترین علاقے کو تباہ و برباد کرڈالا، خاص طور پر صحت عامہ، تعلیم اور پسماندگی جیسے اُمور پر شہر کے اس علاقے کو نظرانداز کرتے ہوئے مجلس نے عوامی مشکلات میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مکہ مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت عدم ادائیگی کے مسئلہ کو چھیڑتے ہوئے کہا کہ شہر کی تاریخی مسجد کے ملازمین کو تنخواہ دلوانے میں جو لوگ کامیاب نہیں ہوپارہے ہیں ان سے عوام کیا توقع کرسکتی ہے۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ سابقہ کانگریس حکومت کے دوران 4فیصد تحفظات کی فراہمی میں حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعلیمی میدان اور ملازمتوں میں تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنایا جس کے سبب ریاست آندھرا پردیش کے ہزاروں نوجوانوں کو فائدہ حاصل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف 4فیصد تحفظات کی فراہمی سے ریاست کے 10لاکھ مسلمانوں کو فائدہ حاصل ہواہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ برسراقتدار ٹی آر ایس حکومت عوام کو 12فیصد تحفظات کے نام پر دھوکہ دے رہی ہے اور حلیف مجلس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے پرانے شہر میں پارٹی کو مضبوط و مستحکم کرنے کی خواہش کرتے ہوئے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کے ساتھ ایک مرتبہ کام کریں پھر دیکھیں کہ ترقی کسے کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر شہر کے مختلف علاقوں گھانسی بازار، لاڑ بازار، مہاجرین کیمپ، محبوب چوک، بنڈی کا اڈہ، چیلہ پورہ، حسینی علم، دودھ باؤلی، خلوت میں کانگریس کی جانب سے نکالی گئی عظیم الشان ریالی کا زبردست خیرمقدم کیا گیا۔ ریالی میں انیل کمار یادو کے علاوہ مقامی کانگریسی قائدین اور گھانسی بازار بلدی حلقہ سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں خواتین موجود تھیں۔ پرانے شہر میں نکالی گئی اس ریالی کی کامیابی کا دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے نوٹ لیا گیا اور اس بات کی کوششیں کئے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پرانے شہر کے کانگریس قائدین کو جلسوں کے ذریعہ بدنام کرنے کی مہم چلائی جائے چونکہ جس پیمانے پر کانگریس کی جانب سے عظیم الشان ریالی کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے اتنے بڑے پیمانے پر دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے پرانے شہر کے علاقوں میں ریالی کا انعقاد انتہائی دشوار کن امر ہے۔

TOPPOPULARRECENT