Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر حیدرآباد کے آٹوز کی ڈیجیٹل نمبر اندازی کا منصوبہ

پرانے شہر حیدرآباد کے آٹوز کی ڈیجیٹل نمبر اندازی کا منصوبہ

ٹیکسی کاروں کی طرز پر اسٹیکرس کی اجرائی پر غور ، مسافرین کے سفر کو محفوظ بنانے پولیس کی مساعی
حیدرآباد۔15فروری(سیاست نیوز) پرانے شہر میں چلائے جانے والے تمام آٹو بہت جلد ڈیجیٹل نمبر اندازی سے لیس ہو جائیں گے۔ سڑکو ں پر بے ہنگم ٹریفک جام اور سڑکوں کومحفوظ بنانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت پرانے شہر کے آٹو رکشا کو بہت جلد سائبرآباد کے ٹیکسی کاروں کے طرز پر ڈیجیٹل نمبر کے اسٹیکر دیئے جائیں گے۔ محکمہ پولیس کی جانب سے کئے جا رہے اقدامات کے بموجب بے جا پارکنگ اور بے ہنگم رفتار کے علاوہ اضافی مسافرین کو بٹھانے سے روکنے کیلئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں اور بہت جلد تمام آٹو رکشا کو اس ڈیجیٹل نمبر اندازی کی مہم میں شامل کرتے ہوئے انہیں محفوظ ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس ساؤتھ زون مسٹر کے بابو راؤ نے بتایا کہ اس تجویز پر ابھی غور کیاجا رہا ہے اور قطعی مراحل میں پہنچنے کے بعد عمل آوری کے تواریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر حیدرآباد کی سڑکوں محفوظ بنانے کے علاوہ ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے اہم سڑکوں پر سخت اقدامات ناگزیر تصور کئے جانے لگے ہیں اسی لئے یہ ٹیکسی کاروں کے بعد اب آٹو رکشا کو بھی ڈیجیٹل نمبر کے اسٹیکر جاری کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ آٹو رکشا کو ڈیجیٹل نمبر اور اسٹیکر کی اجرائی میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا جائے گا کہ کن آٹو مالکین یا ڈرائیورس کو یہ اسٹیکر جاری کئے جائیں ؟ ذرائع کے بموجب آٹو رکشا ڈرائیورس کی بے قاعدگیوں پر بھی ان اسٹیکرس کے ذریعہ کنٹرول کیا جا سکے گا کیونکہ ابتداء میں یہ اسٹیکرس صرف ایک سال کی مدت کیلئے جاری کئے جائیں گے اور اس مدت کے دوران ٹریفک بے قاعدگیوں میں ملوث آٹو ڈرائیورس کے اسٹیکرس کی تجدید عمل میں نہیں لائی جائے گی۔محکمہ پولیس اور محکمہ ٹریفک پولیس کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد بھی اس پراجکٹ میں شامل ہوں گے کیونکہ شہر کے ٹریفک نظام کو درست کرنے میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے بھی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔عہدیداروں کے بموجب محکمہ پولیس و بلدیہ کی جانب سے آر ٹی اے کی مدد حاصل کرتے ہوئے صرف ان آٹو رکشا کو یہ اسٹیکر جاری کئے جائیں گے جن کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ اسٹیکر کی اجرائی سے قبل آٹو رکشا کے فٹنس سرٹیفیکیٹ کی جانچ کے علاوہ پولیوشن‘ ڈرائیورس کے لائسنس ‘ آٹو کے رجسٹریشن کی مکمل تفصیلات حاصل کرتے ہوئے اسے ڈیجیٹل کیا جائے گا اور ڈرائیورس کو ٹریفک قواعد کی پابندی کا عہد کروانے کے بعد ہی یہ اسٹیکر جاری کئے جائیں گے جس پر بارکوڈ میں آٹو رکشا اور اس کے مالک کی تمام تر تفصیلات موجود رہے گی ۔چارمینار کے اطراف و اکناف آٹو رکشا کی بے ہنگم پارکنگ اور تالاب کٹہ‘ شاہ علی بنڈہ ‘ انجن باؤلی‘ فلک نما‘ کے علاوہ کالا پتھر ‘ تاڑبن وغیرہ چلائے جانے والے آٹو رکشا کی بے ہنگم رفتار اور زائد مسافرین کو بٹھانے کی شکایات پر بھی اس امر کے ذریعہ قابو پایا جا سکے گا۔بتایاجاتا ہے کہ پرانے شہر میں بغیر لائسنس آٹو چلانے والے نوجوانوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے یہ منصوبہ تیار کرنے کے ساتھ ساتھ شہر میں آٹو رکشا کے سفر کو سرکاری طور پر محفوظ قرار دینے کیلئے یہ کاروائی کی جا رہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ اس منصوبہ کو اندرون دو ماہ قطعیت دیتے ہوئے پولیس کے تعاون سے ماہ اپریل کے اواخر میں عملی اقدامات کاآغاز کردیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT