Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر حیدرآباد کے بچوں میں کھیل کود کا رجحان ختم

پرانے شہر حیدرآباد کے بچوں میں کھیل کود کا رجحان ختم

میدانوں کا خاتمہ ، جی ایچ ایم سی کی سہولتوں سے استفادہ کے لیے ماحول ناگزیر
حیدرآباد۔22اگسٹ (سیاست نیوز ) پرانے شہر میں کھیل کود کی مناسب سہولتیں نہ ہونے کے سبب پرانے شہر کے بچوں میں کھیل کود کا رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے۔پرانے شہر میں موجود میدانوں کے بتدریج خاتمہ نے نوجوانوں میں کھیل کود سے دلچسپی کو ختم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کھیل کود کیلئے میدان اور اسپورٹس اتھاریٹی کے ساتھ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے نوجوانوںکو سہولتوں کی فراہمی ان میں مسابقتی جذبہ اور کھیلوں سے دلچسپی پیدا کرتی ہے لیکن پرانے شہر میں کھیلوں میں دلچسپی برقرار رکھنے کیلئے سب سے پہلے ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں فراہم کی جانے والی کھیل کود کی سہولتوں کا جائزہ لیا جائے تو پرانے شہر کے نوجوانوں میں کوشش کا جذبہ موجود ہے لیکن انہیں مواقع دستیاب نہیں ہیں ۔ حکومت اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے پرانے شہر کے نوجوانوں کیلئے جسمانی ورزش کے علاوہ دیگر کھیلوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پرانے شہر سے بھی چمپئن نکل سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پرانے شہر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کھیلوں میں دلچسپی نہیں رکھتے لیکن انہیں سرکاری طور پر مواقع دستیاب نہ ہونے کے سبب وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر پاتے اسی لئے یہ ضروری ہے کہ ان نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے۔ شہر حیدرآباد سے کھیل کود کے ذریعہ عالمی سطح پر شہرت حاصل کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے اس کے باوجود حیدرآباد کے پرانے شہر پر کسی کی توجہ نہیں ہے جبکہ پرانے شہر میں کئی کھیلوں میں مہارت حاصل کرنے اور بہترین مظاہرہ کرنے والے کھلاڑی ہیں لیکن انہیں ترقی کے مواقع نہیں دیئے جاتے اور یہ کھلاڑی اپنے بہترین مظاہروں کے باوجود موقع میسر نہ آنے کے سبب کھیل کی دنیا کو خیر آباد کر دیتے ہیں اور بعض جنونی جو کھیل کی دنیا میں مگن ہوتے ہیں وہ حالات کو کوستے ہیں اس کے باوجود اپنے جنون کو ترک نہیں کرتے۔ پرانے شہر میں فٹبال‘ کرکٹ‘ مارشل آرٹ‘ جوڈو‘ تیراکی کے علاوہ دیگر کھیلوں میں مہارت رکھنے والے کئی کھلاری موجود ہیں لیکن ان کھلاڑیوں کی اکیڈمی کو حکومت کی سرپرستی حاصل نہ ہونے کے سبب تربیت حاصل کرنے والے کھلاڑی قومی یا بین الاقوامی مقابلوں تک نہیں پہنچ پاتے ۔ حکومت با لخصوص مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے پرانے شہر کے میدانوں میں خصوصی کوچس کے تقرر کے ذریعہ کھیلوں کی تربیت کی فراہمی کا آغاز کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں بہترین و باصلاحیت نوجوانوں کو شہر کے اس خطہ سے ہندستان کی نمائندگی کے لئے روانہ کیا جا سکتا ہے۔پرانے شہر میں فی الحال صرف ایک اسپورٹس کامپلکس ہے جو چندولعل بارہ دری میں چلایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور اسپورٹس کامپلکس مغلپورہ پلے گراؤنڈ میں زیر تعمیر ہے۔ ان اسپورٹس کامپلکس کے علاوہ پرانے شہر میں چند میدان اب بھی باقی ہیں اگر ان کھیل کے میدانوں میں مختلف کھیلوں کی تربیت کا آغاز کیا جاتا ہے تو اس کے زبردست نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ دارالشفاء گراؤنڈ میں آج بھی نوجوان فٹبال کی پریکٹس کرتے ہیں لیکن انہیں کوئی سرکاری مدد حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح بارکس‘ خورشید جاہ‘ قلی قطب شاہ اسٹیڈیم میں بھی ہزاروں نوجوان اپنے طور پر کھیلوں کی تربیت حاصل کرتے ہیں لیکن انہیں کوئی صلاح کار یا کوچ دستیاب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دونوں شہروں میں کئی کرکٹ کلبس موجود ہیں لیکن ان کرکٹ کلبس کا مکمل انحصار حیدرآباد کرکٹ اسوسیشن پر ہے اور پرانے شہر میں ان کرکٹ کلبس میں تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو جی ایچ ایم سی سے کوئی مدد حاصل نہیں ہے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے پرانے شہر میں کہیں اسکیٹنگ‘ بیاڈمینٹن یا ٹینس کی تربیت کا نظم نہیں ہے ۔ انڈور اسٹیڈیم میں ان کوچس کے تقرر اور بہترین سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں پرانے شہر کے نوجوانوں کو بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا موقع میسر آسکتا ہے۔ منتخبہ عوامی نمائندے بالخصوص اراکین بلدیہ عہدیداروں سے نمائندگی کرتے ہیں تو یہ سہولتیں بہم پہنچائی جا سکتی ہیں۔ پرانے شہر میں بلدیہ کی کھیل کود کی سرگرمیاں جسمانی ورزش اور جم کی حد تک محدود ہو چکی ہیں جبکہ شہر میں کئی جم خانگی چلائے جا رہے ہیں لیکن بلدیہ کی جانب سے کمیونیٹی ہالس میں جم کھولنے کے منصوبوں کو منظوری دی رہی ہے اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ پرانے شہر کے نوجوانوں کیلئے یہ کھیل کود کا مشغلہ کافی ہے۔

TOPPOPULARRECENT