Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر حیدرآباد کے کئی علاقے بنیادی سہولتوں سے محروم

پرانے شہر حیدرآباد کے کئی علاقے بنیادی سہولتوں سے محروم

پانی ، برقی ، ڈرینج اور سڑکیں ، صفائی نظر انداز ، سیاسی قائدین کے دعوے کھوکھلے ثابت
حیدرآباد۔ 11 اگسٹ ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد کی مجموعی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب شہر حیدرآباد کے ہر علاقہ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی ہو۔ پرانے شہر کے کئی علاقے آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم علاقوں میں تصور کئے جاتے ہیں اور کئی علاقوں میں آبی سربراہی ہفتہ میں ایک بار ہوا کرتی ہے لیکن اس مسئلہ کے حل کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ شہر میں ہمہ منزلہ عمارتوں کی تعمیر یا بڑی گاڑیوں کی دوڑ شہر کی ترقی کی علامت نہیں ہوتی بلکہ شہریوں کو سہولت کی فراہمی کے ذریعہ ہی شہر کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مسلم علاقوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ علاقہ جات پسماندگی کی مثال بنتے جا رہے ہیں۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں چند برس قبل تک بھی سرکاری نلوں کے ذریعہ پانی کی سربراہی ہوا کرتی تھی اور جب پانی کی قلت کا دور ہوتا تو ٹینکرس کے ذریعہ پینے کا پانی سربراہ کیا جا تا تھا لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ تیز رفتار ترقی کے نام پر سرکاری نلوں کی جگہ واٹر ٹینکس نے لے لی اور چند برسوں میں ہی ان پلاسٹک واٹر ٹینکس کی جگہ ’’منرل واٹر پلانٹ‘‘ آگئے جہاں پانی کی فروخت ہونے لگی۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں لوگ یہ پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں اور اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ شہر کے کئی محلہ جات میں گنجان مسلم آبادیاں ہیں ان علاقوں میں پانی کی روزانہ عدم سربراہی عوام کیلئے تکلیف کا باعث ہے جبکہ سیاسی قائدین یہ دعوے کرتے رہتے ہیں کہ ان علاقوں میں ہر گھر میں نل کا کنکشن موجود ہے لیکن وہ اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ ان نلوں میں پانی کتنے وقت کے لئے آتا ہے ۔ ان حقائق سے واقفیت کے باوجود مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ ہر گھر تک نل کا کنکشن موجود ہے کہاں تک درست ہے؟ حکومت کی جانب سے ہر گھر کو نل کا کنکشن پہنچانے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں اور اس مقصد کے حصول کیلئے کروڑہا روپئے کے بجٹ کی تخصیص عمل میں لائی جا رہی ہے لیکن جن علاقوں میں نل کے کنکشن ہر گھر میں موجود ہیں ان علاقوں میں روزانہ یا معمول کے مطابق آبی سربراہی یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے بھی ضروری ہے۔ پرانے شہر کے علاقہ تیگل کنٹہ ‘ انصاری روڈ ‘ نواب صاحب کنٹہ کے گھروں میں جس دن نل سے پانی کی سربراہی ہوتی ہے اس دن ہر راہگیر کو پتہ چلتا ہے کہ ان علاقوں میں پانی کی سربراہی ہو رہی ہے۔ ان علاقوں کی سڑکوں پر محکمہ کے عہدیداروں کی لاپرواہی کے سبب اس ایک دن میں پانی بہتا ہے اگر اس کے تحفظ کو ہی یقینی بنایا جانے لگے تو کم از کم ایک یوم کے وقفہ سے ان علاقوں میں آبی سربراہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ پرانے شہر کے ان علاقوں میں سڑکوں پر بہنے والا یہ صاف پانی نہ صرف پانی کا ضائع ہونا ہے بلکہ یہ پانی کچہرے میں ملنے کے بعد بدبو و تعفن کے ساتھ مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔ مچھروں کی افزائش کئی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں اسی لئے یہ ضروری ہے کہ نل کے کنکشن سے پانی سڑکوں پر بہتا ہے اسے روکا جائے لیکن اس سلسلہ میں کسی گوشہ سے توجہ نہیں دی جاتی بلکہ یہ کہتے ہوئے نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ کم از کم پانی کی سربراہی تو ہو رہی ہے۔ ہفتہ میں ایک دن پانی حاصل کرنے والے ان شہریوں کو شائد اس بات کا احساس نہیں ہے کہ محکمہ کی غفلت انہیں صرف پانی کی قلت کا ہی نہیں بلکہ کئی بیماریوں کا شکار بنا رہی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پرانے شہر میں محکمۂ جاتی عہدیداروں کی لاپرواہی اور منتخبہ عوامی نمائندوں کی بے حسی عوام کیلئے وبال جان بنی ہوئی ہے۔ شہر حیدرآباد میںنئے شہر کے بعض علاقوں میں بھی یہی صورتحال ہے لیکن اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ علاقے بھی مسلم غالب آبادی والے علاقوں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ پرانے شہر میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے نام پر کئے جانے والے کاموں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ شہر کے اس خطہ میں ترقی کے مستقل اقدامات نہیں کئے جاتے بلکہ عارضی طور پر مسائل کو حل کرتے ہوئے عوامی تائید حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ سڑکوں پر ڈرینیج کا گندہ پانی ہو یا نل کا صاف پانی بہے یہ نہ صرف راہگیروں کیلئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے بلکہ پانی بہنے کے اس عمل مسلسل سے علاقہ کے شہریوں کی صحت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔ریاستی حکومت کے نمائندے اگر پرانے شہر کی گنجان آبادیوں کا رخ کرتے ہوئے سڑکوں کی حالت کے علاوہ آبی سربراہی‘ سیوریج نظام اور اسٹریٹ لائٹس کے نظم کا مشاہدہ کریں تو انہیں اس بات کا اندازہ ہوگا کہ کس طرح سے پرانے شہر کے قدیم محلہ جات کی صورتحال تیزی سے دیہی علاقوں کی طرح ہوتی جا رہی ہے اور ان علاقوں کے عوام کو کس طرح ظاہری چمک دھمک میں محو رکھا گیا ہے۔ بہتر سڑک‘ آبی سربراہی ‘ صفائی‘ کچہرے کی نکاسی‘ سیوریج نظام میں بہتری اور معیاری بلدی سہولتیں شہریوں کا حق ہے لیکن پرانے شہر کے کئی شہری آج بھی ان حقوق سے محروم ہیں جنہیں حقوق کی فراہمی منتخبہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔

TOPPOPULARRECENT