Monday , May 29 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر حیدرآباد میں میٹرو ٹرین خدمات پر حکومت اور عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی

پرانے شہر حیدرآباد میں میٹرو ٹرین خدمات پر حکومت اور عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی

ماضی کے پلان پر حصول اراضیات میں سیاسی مداخلت، دیگر مقامات پر میٹرو ٹرین کی تیاری مکمل
حیدرآباد۔8۔جنوری (سیاست نیوز) حکومت کے پاس پرانے شہر کی ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی عوامی نمائندے شہر کے اس خطہ کی ترقی کے متعلق کوئی ٹھوس منصوبہ رکھتے ہیں ۔پرانے شہر میں میٹرو ریل راہداری کے متعلق عدم فیصلہ سے حکومت اور عوامی نمائندوں کی پرانے شہر کی ترقی سے عدم دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے جاری کاموں میں پرانا شہر کی راہداری اب تک بھی شامل ہے لیکن اس راہداری پر ترقیاتی کاموں کو سیاسی منظوری حاصل ہونا باقی ہے عہدیدار ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ اس راہداری میں کوئی تبدیلی کی جائے گی یا نہیں؟ اسی لئے اس راہداری پر کوئی تعمیری و ترقیاتی کام کی انجام دہی سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے قبل حیدرآباد میٹرو ریل کی راہداریوں میں دو مقامات پر شدید اعتراض کیا تھا جن میں سلطان بازار اور اسمبلی کے سامنے کی گذر گاہ شامل ہے جہاں میٹرو کی تعمیر کو رکوانے کا ٹی آر ایس نے اعلان کیا تھا لیکن 2014میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد ٹی آر ایس نے اس مسئلہ کو سلجھا لیا اور اندرون ڈھائی برس ان دونوں گذرگاہوں پر حیدرآباد میٹرو ریل کے تعمیری کاموں کو 70فیصد تک مکمل کرلیا گیا لیکن پرانے شہر کی گذرگاہ کے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہ کئے جانے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شہر کے اس خطہ سے گذرنے والی میٹرو کے تعمیری کاموں سے نہ حیدرآباد میٹرو ریل کو دلچسپی ہے اور نہ ہی حکومت کو اس مسئلہ میں کوئی عجلت ہے کیونکہ شہر کی ترقی کے اس مسئلہ کے متعلق عوامی نمائندوں کی جانب سے کوئی دباؤ نہیں ہے جس کے سبب عہدیدار اور حکومت دونوں ہی مطمئن ہیں۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے موجودہ منصوبہ کے مطابق پرانے شہر کی راہداری دارالشفاء‘ پرانی حویلی ‘ منڈی میر عالم ‘ کوٹلہ عالیجاہ‘ بی بی بازار چوراہا‘ مغلپورہ ‘ ہری باؤلی سے ہوتی ہوئی شاہ علی بنڈہ سے گذرے گی لیکن اس راہداری پر اعتراض کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ موسی ندی سے میٹرو ریل کو گذارا جائے۔ حکومت اس بات سے واقف ہے کہ منتخبہ عوامی نمائندے موسی ندی سے حیدرآباد میٹرو ریل کو گذارنے کی بات کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود موسی ندی کو خوبصورت بنانے کے نام پر کروڑہا روپئے خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔حکومت اور عوامی نمائندوں کو اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرنے کے بعد ہی کوئی پیشرفت کرنی چاہئے کیونکہ بغیر منصوبہ بندی کے ترقیاتی کاموں کے سبب عوامی دولت ضائع ہوگی اور کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ میٹرو ریل کے ایک عہدیدارکے بموجب تاحال پرانے شہر کے منصوبہ میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے بلکہ منصوبہ جوں کا توں برقرار ہے اور حکومت کی جانب سے اجازت کے ساتھ ہی حصول جائیداد اور ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جا سکتا ہے لیکن سیاسیمداخلت کے باعث پرانے شہر کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT