Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں سیاسی جماعت کے کارکنوں کی من مانی روکنا ضروری

پرانے شہر میں سیاسی جماعت کے کارکنوں کی من مانی روکنا ضروری

رائے دہی کے فیصد کو بڑھانے کے لئے شفاف رائے دہی کو یقینی بنایا جائے، انتخابی عملہ کی تعیناتی اور سختی کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 10 جنوری (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں ہونے جارہے بلدی انتخابات میں رائے دہی کے فیصد کو بڑھانے کیلئے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن شہریوں اور رائے دہندوں کا یہ ماننا ہے کہ جب تک رائے دہی میں شفافیت پیدا نہیں کی جاتی، اور تلبیس شخصی کو روکنے کے اقدامات سختی سے نافذ نہیں کئے جاتے، اس وقت تک رائے دہی کے فیصد میں اضافہ ہونا دشوار ہے۔ بیشتر رائے دہندوں کا کہنا ہے کہ جب کبھی وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا چاہیں، انہیں شناختی کارڈ کے لزوم پر عمل آوری کے لئے مجبور کیا جائے تاکہ ان کے ووٹ کوئی دوسرے استعمال نہ کرسکیں۔ اسی طرح رائے دہندوں میں پیدا ہونے والے احساس عدم تحفظ کے خاتمہ کیلئے نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ انتخابی عملہ کو بااختیار بنانے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ رائے دہندے بلاخوف و خطر اپنے حق رائے دہی کے استعمال قطار در قطار جمع ہوسکیں۔ پرانے شہر بالخصوص ایسے علاقوں میں جہاں پولیس کی بروقت رسائی یا مداخلت ہونا دشوار ہے، ان علاقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن مرکز رائے دہی پر قبضہ کرتے ہوئے من مانی چلاتے ہیں، اسی لئے یہ ضروری ہے کہ ریاستی الیکشن کمیشن نہ صرف رائے دہی کے دن مکمل عمل کی نگرانی کو یقینی بنائے بلکہ مراکز رائے دہی کے باہر غیرجانبدار عہدیداروں کی تعیناتی کیلئے اقدامات کرے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب انتخابی عملہ کی تعیناتی کے سلسلے میں ریاستی الیکشن کمیشن نے سخت اقدامات کرتے ہوئے جس علاقہ میں ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں یا مقیم ہیں، ان علاقوں میں انہیں انتخابی ذمہ داریاں تفویض نہیں کی گئی ہیں بلکہ اطراف کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین جو انتخابی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، انہیں شہر کے مراکز رائے دہی پر تعینات کیا جارہا ہے۔ اسی طرح شہر میں خدمات انجام دینے والے یا رہنے والے سرکاری ملازمین کو جن کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں، انہیں نواحی علاقوں میں متعین کیا جارہا ہے تاکہ انتخابی عملہ کو سیاسی قائدین یا امیدواروں کے رابطے سے دور رکھا جاسکے۔ عوامی اور سیاسی قائدین کی رائے ہے کہ اسی طرح انتخابی عملہ کے ساتھ نظم و ضبط کی ذمہ داری نبھا رہے عہدیداروں کو بھی دیگر علاقوں کی ذمہ داریاں تفویض کی جائیں یا اضلاع میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کو خصوصی طور پر جی ایچ ایم سی انتخابات کے سلسلے میں زائد ذمہ داریاں تفویض کرتے ہوئے انہیں متعین کیا جائے تاکہ عوام اور سیاسی جماعتوں میں کسی قسم کے شبہات پیدا نہ ہوں۔ انتخابی عمل میں آسانی پیدا کرنے کے علاوہ رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ریاستی الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل شفاف بنانے کیلئے ضروری اقدامات جیسے شناختی کارڈ کا لزوم وغیرہ کو لازمی قرار دینا ہوگا تاکہ عوام میں اعتماد برقرار رہ سکے۔

TOPPOPULARRECENT