Sunday , March 26 2017
Home / جرائم و حادثات / پرانے شہر میں غیر قانونی فینانسرس کے خلاف کارروائی ،27 سودخور گرفتار

پرانے شہر میں غیر قانونی فینانسرس کے خلاف کارروائی ،27 سودخور گرفتار

نوٹ بندی کے بعد اندھادھند سود پر قرض دینے کے واقعات ،بھاری مقدار میں بانڈز پیپرس ضبط
حیدرآباد۔/17مارچ، ( سیاست نیوز) پرانے شہر میں پولیس نے آج غیر قانونی فینانسرس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 27 سودخوروں کو حراست میں لے لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان سود خوروں کو سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد پرانے شہر میں غیر قانونی فینانسرس کا کاروبار عروج کو پہنچ چکا ہے کیونکہ ریزرو بینک آف انڈیا کے احکامات کے پیش نظر عوام کے پاس نقد رقم موجود نہیں ہے۔ سود خور 100فیصد شرح سود پر قرض دیتے ہوئے ملکیت کے دستاویزات کو حاصل کرنے کے علاوہ ان کے نام پر جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے ) بھی حاصل کررہے تھے۔ پولیس کی 18خصوصی ٹیموں نے آج پرانے شہر کے علاقہ مغلپورہ، چھتری ناکہ ، مادنا پیٹ، چندرائن گٹہ، رین بازار اور حسینی علم میں کارروائی کرتے ہوئے 27 افراد کو گرفتار کرلیا جو غیر قانونی فینانس کے کاروبار میں ملوث پائے گئے۔ اس کارروائی کے دوران پولیس نے بھاری مقدار میں بانڈز پیپرس، سادہ پرامیسری نوٹس، چیکس اور دیگر دستاویزات برآمد کرلیئے۔ پولیس نے حراست میں لئے گئے سود خوروں کے خلاف 13 مقدمہ درج کئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر وی ستیہ نارائنا نے بتایا کہ پولیس نے علاقہ چندرائن گٹہ میں اقبال بن سالم بن خلیفہ کو حراست میں لے لیا جو مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر فینانس کا کاروبار چلارہا تھا اور اس نے عوام کی ملکیت کے دستاویزات بھی حاصل کئے تھے۔ اسی طرح پولیس نے بارکس کیشو گیری کے صابر بن محمد بصراوی، ابوبکر سید برجق، رین بازار میں عبدالقدیر، محمد عبدالرؤف، مرزا ساجد بیگ، حسینی علم میں محمد ولی الدین، مادنا پیٹ میں مصباح، وینکٹیش، مغلپورہ میں راجکمار لالوانی، چھتری ناکہ میں جے راجو نائیک، وی کشن نائیک اور وی راجی ریڈی کو گرفتار کرلیا ہے۔ کارروائی کے دوران حراست میں لئے گئے دیگر خانگی فینانسرس محمد عبدالرفیق عرف بابا ساکن بھوانی نگر، سید محسن علی، محمد عامر خان، محمد فاروق، محمد پرویز، محمد معین الدین، علی بن عبداللہ مقصود، حسین بن علی لہجی، سید عبدالقادر علی اور دیگر 12 کو حراست میں لیا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور شواہد اکٹھا کرنے پولیس کوشش کررہی ہے۔ حراست میں لئے گئے سود خوروں کو سیاسی جماعتوں کے آلہ کار انہیں بچانے کی کوششوں میں سرگرم ہوچکے ہیں اور پولیس کی فہرست سے نام حذف کرانے کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ اس کارروائی میں ایسے بھی سود خوروں کا پتہ چلا ہے جو سرکاری ملازمین کی بے نامی جائیدادوں کو اپنے غیر قانونی فینانس کاروبار میں استعمال کررہے تھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT