Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں فٹ پاتھ پر قبضوں کی برخاستگی ، غریب تاجر روزگار سے محروم

پرانے شہر میں فٹ پاتھ پر قبضوں کی برخاستگی ، غریب تاجر روزگار سے محروم

عوامی نمائندوں کا بلدی کارروائی میں مداخلت سے انکار ، بڑے تاجروں کی من مانی نظر انداز
حیدرآباد۔20ڈسمبر (سیاست نیوز) پرانے شہر میںبلدیہ کی جانب سے جاری فٹ پاتھ پر موجود تاجرین کی برخواستگی پر منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی کو تاجرین ان  نمائندوں کی رضامندی تصور کر رہے ہیں کیونکہ متعدد مرتبہ فون کرنے کے باوجود متعلقہ کارپوریٹرس اور قائدین اس مسئلہ میں مداخلت کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ گذشتہ 10یوم سے جاری فٹ پاتھ پر موجود قبضہ جات کی برخواستگی کے دوران اب تک 400سے زائد تاجرین اپنے معمولی روزگار سے بھی محروم ہو چکے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے کیونکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کا ادعا ہے کہ حیدرآباد ہائی کورٹ کے احکام کے مطابق یہ کاروائی کی جا رہی ہے ۔ فٹ پاتھ تاجرین جنہیں ان احکامات کے متعلق علم ہی نہیں ہے وہ اس مسئلہ کو متعلقہ کارپوریٹر سے رجوع کر رہے ہیں لیکن ان کارپوریٹر س کو غریب تاجرین کی بپتا سننے کے لئے بھی وقت نہیں ہے۔ دونوں شہروں کے مختلف مقامات پر بلدی عہدیداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر کاروائی کی جا رہی ہے لیکن اس مسئلہ کو بری طرح سے نظر انداز کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شہر میں سب کچھ ٹھیک ہے لیکن 10دن میں 400سے زائد چھوٹے تاجرین جو اپنے روز گار سے محروم ہو چکے ہیں ان میں بیشتر خاندانو ںکا انحصار ان کاروبار پر ہی ہوا کرتا تھا اور اب وہ بے یار و مددگار ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور وہ جب کسی سے یہ مسئلہ کہہ رہے ہیں تو انہیں یہ کہہ دیا جا رہا ہے کہ اس مسئلہ میں کوئی عوامی نمائندہ کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ عدالتی احکام ہیں ان میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ معصوم چھوٹے تاجرین جو ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتے ہیں وہ ان باتوں کا یقین کرتے ہوئے اپنے کاروبار کی تباہی کیلئے عدالتی احکام کو قصوروار سمجھتے ہیں جبکہ ایسے سینکڑوں احکام ہیں جنہیں عوامی نمائندوں کی جانب سے عمل کرنے سے رکوایا گیا ہے۔ متاثرہ تاجرین نے بتایا کہ گلزار حوض کے قریب تمام قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کی جانے والی تعمیر ات مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کو نظر نہیں آرہی ہیں کیونکہ یہ تعمیرات با اثر افراد کی جانب سے کی جا رہی ہیں اور ان تعمیرات کے لئے نہ صرف بلدی قوانین بلکہ آثار قدیمہ‘ سیاحتی قوانین کے علاوہ دیگر کئی قوانین کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں اور ان قوانین کے تحفظ کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو عدالت نے کئی احکام دیئے ہیں لیکن جب غریب چھوٹے تاجرین پر احکام صادر کرنے کی بات ہوتی ہے تو جی ایچ ایم سی کے پاس عملہ بھی موجود ہوتا ہے اور جی ایچ ایم سی کو پولیس کی مدد بھی مل جاتی ہے تاکہ کوئی انہدامی کاروائی میں رکاوٹ پیدا نہ کرسکے لیکن جب کسی متمول یا با اثر کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور ان کے خلاف عدالتی احکام بھی موجود ہوتے ہیں تو ان پر عمل آوری کیلئے عملہ موجود نہیں ہوتا یا پھر حالات کے بگڑنے کے خدشہ کے تحت پولیس کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کاروائی سے اجتناب کیا جاتا ہے اور اگر کاروائی شروع ہو بھی جاتی ہے تو ارکان اسمبلی ان بڑی عمارتو ںکو منہدم ہونے سے بچانے کیلئے پہنچ جاتے ہیں اور اعلی عہدیداروں سے ملاقات کی جاتی ہے ۔ فٹ پاتھ تاجرین کی غربت اور ان کے چھوٹے کاروبار کی تباہی کو وہ روکنے سے قاصر ہیں اور اپنی بے بسی کا ماتم کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کاکہنا ہے کہ شہر میں جاری اس مہم میں آئندہ دنوں میں مزید شدت پیدا کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT