Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں مجلس کا متبادل بننے کانگریس کوشاں؟

پرانے شہر میں مجلس کا متبادل بننے کانگریس کوشاں؟

موقع پرستی، جذباتی تقاریر اب چلنے والے نہیں: وی ہنمنت راؤ
حیدرآباد ۔ 26 ڈسمبر (سیاست نیوز) کیا کانگریس پرانے شہر میں مجلس کے متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے؟ پرانے شہر میں کانگریس کی سرگرمیوں سے عوام میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے مجلس پر آر ایس ایس اور بی جے پی سے خفیہ سازباز کرلینے کا الزام عائد کرتے ہوئے دارالسلام میڈیکل و انجینئرنگ کالجس میں قیام سے اب تک کتنے غریب مسلم طلبہ کو مفت داخلہ دیا گیا اس پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخرالدین بھی موجود تھے۔ مسٹر ہنمنت راؤ نے کہا کہ مجلس اور اس کے قائدین نے سوائے جذباتی تقاریر کرنے کے پرانے شہر کی ترقی کیلئے کوئی بھی اقدامات نہیں کئے ہیں۔ پرانے شہر کی جو بھی ترقی ہوئی ہے وہ کانگریس کی مرہون منت ہے۔ مجلس اقتدار کی پجاری ہے۔ جب تک کانگریس اقتدار میں تھی، کانگریس کے ساتھ تھی آج ٹی آر ایس اقتدار میں ہے تو ٹی آر ایس کے ساتھ ہے۔ مجلس کے پاس کوئی ایجنڈہ نہیں ہے اور نہ ہی مجلس اصول پسند جماعت ہے۔ وہ تو صرف موقع پرست جماعت ہے۔ صدر مجلس اسدالدین اویسی نے مجلس موقع پرست جماعت ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ کانگریس اور عظیم اتحاد کو نقصان پہنچانے کیلئے مجلس نے مہاراشٹرا اور بہار میں مقابلہ کیا ہے۔ یہ سب آر ایس ایس اور بی جے پی سے خفیہ اتحاد کا نتیجہ ہے۔ تاہم مسلمانوں میں شعور بیدار ہوگیا ہے۔ بہار کے مسلمانوں نے سیکولرازم کا ساتھ دیتے ہوئے مجلس کو سبق سکھایا ہے۔ دونوں بھائی صرف جذباتی تقاریر کرتے ہوئے مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ میلادالنبی ؐ کے موقع پر پیغمبر کا پیغام عام کرنے کے بجائے سیاسی تقاریر کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے حیدرآباد کو حیدرآبادیوں کا ہونے کا نعرہ دیا ہے۔ آپ اوسہ سے یہاں آئے کہاں رہتے ہیں سب کو معلوم ہے۔ کانگریس سے مجلس کی مفاہمت رہنے تک خاموش رہنے اتحاد توڑنے پر مجلس کو تنقید کا نشانہ بنانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ مسلمانوں کا مرکز بنانے کیلئے کانگریس نے مجلس کو دارالسلام حوالے کیا۔ غریب مسلمانوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے مجلس کو انجینئرنگ و میڈیکل کالجس کے علاوہ دوسرے تعلیمی ادارے دیئے مگر مجلس غریب مسلمانوں کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے ان اداروں کو رقم بٹورنے کی مشین میں تبدیل کرچکے ہیں جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ کانگریس کے رکن راجیہ سبھا نے کہا کہ مسلمانوں اور پرانے شہر کی ترقی اور بہبود کیلئے کانگریس نے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے ہیں۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کے علاوہ دوسری ترقیاتی کاموں کو بنیاد بناتے ہوئے کانگریس گریٹرحیدرآباد بلدی انتخابات کا سامنا کرے گی اور پرانے شہر کے تمام بلدی حلقوں پر تنہا مقابلہ کرتے ہوئے مجلس کو منہ توڑ جواب دے گی۔ منی کنڈہ کی 3 ایکر وقف جائیداد جس کا سپریم کورٹ میں معاملہ زیردوران ہے، یہ جائیداد گردوارہ کے حوالے کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی وضاحت کرنے کا ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی سے مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT