Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / پرانے شہر میں ٹی آر ایس کی مقبولیت میں اضافہ

پرانے شہر میں ٹی آر ایس کی مقبولیت میں اضافہ

اقلیتیں حکومت کی اسکیمات سے خوش،بلدی انتخابات میں حیرت انگیز مظاہرہ کی امید:پارٹی سروے
حیدرآباد ۔ 21 ۔ ڈسمبر (سیاست  نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات میں برسراقتدار ٹی آر ایس کو پرانے شہر میں غیر متوقع طور پر کامیابی کا یقین ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اقلیتوں میں ٹی آر ایس کے حق میں زبردست لہر دیکھی جارہی ہے اور  پرانے شہر کے 8 اسمبلی حلقوں میں ٹی آر ایس کا مظاہرہ متاثر کن رہے گا۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع نے بتایا کہ انتخابی موقف کے سلسلہ میں پرانے شہر میں جو سروے کیا گیا تھا ، وہ غیر معمولی مثبت برآمد ہوا۔ پارٹی کی رکنیت سازی میں اقلیتوں نے جس جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ، اس کا سلسل آج بھی برقرار ہے۔ حالیہ عرصہ میں حکومت کے بعض فلاحی اقدامات پرانے شہر میں ٹی آر ایس کی مقبولیت میں اضافہ کا سبب بنے ہیں۔ سروے کے مطابق غریب لڑکیوں کی شادی میں امداد سے متعلق شادی مبارک اسکیم اور غریبوں کو وظائف کی تقسیم جیسی اسکیمات میں اقلیتوں کو ٹی آر ایس کو قریب کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت پرانے شہر کے کئی غریب طلبہ بیرونی یونیورسٹیز میں تعلیم کیلئے روانہ ہوئے۔ حکومت نے پرانے شہر میں نوجوانوں کیلئے مختلف مسابقتی امتحانات کی کوچنگ اور پولیس میں تقررات کیلئے ٹریننگ کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے ۔ رمضان المبارک میں حکومت کی جانب سے دو لاکھ غریب خاندانوں میں کپڑوں کی تقسیم اور افطار و طعام کے انتظامات سے مسلمان کافی خوش ہیں۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ ائمہ اور مؤذنین کیلئے ماہانہ اعزازیہ سے متعلق اسکیم کا بھی عوام کی جانب سے خیرمقدم کیا جارہا ہے ۔ پارٹی سروے کے مطابق گزشتہ 6 ماہ میں مسلم اکثریتی علاقوں میں پارٹی مستحکم ہوئی ہے ۔ عام طورپر ان علاقوں کو مقامی سیاسی جماعت کا گڑھ مانا جاتا تھا لیکن ٹی آر ایس نے اپنی کارکردگی کے ذریعہ اقلیتوں کا دل جیتنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے رکن قانون ساز کونسل محمد محمود علی کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتوں کا دل جیت لیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کو پرانے شہر پر خصوصی توجہ دینے کی ذمہ داری دی گئی اور وہ انتخابات کے موقع پر زیادہ تر وقت پرانے شہر کے مسائل پر مرکوز کریں گے ۔ وہ پرانے شہر کے اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔ اسی دوران صدر گریٹرحیدرآباد ٹی آر ایس ایم ہنمنت راؤ نے دعویٰ کیا کہ پرانے شہر کے ہر وارڈ میں ٹی آر ایس کا موقف کافی مستحکم ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس مرتبہ انتخابات میں پرانے شہر میں پارٹی کا مظاہرہ متاثر کن رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اقلیتی طبقہ کی جانب سے رضاکارانہ طور پر پارٹی کی تائید کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ہنمنت راؤ کے مطابق پرانے شہر کے کئی علاقوں سے روزانہ اقلیتی نمائندے ان سے ملاقات کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کا تیقن دے رہے ہیں۔ عوامی وفود چاہتے ہیں کہ پارٹی ہر وارڈ میں اقلیتوں کیلئے جلسوں کا انعقاد عمل میں لائے تاکہ حکومت کی فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات سے عوام کو واقف کیاجاسکے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ بہت جلد پرانے شہر حیدرآباد کے اسمبلی انچارجس کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے حکمت عملی کو قطعیت دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر میں ٹکٹوں کی تقسیم میں اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ جب پرانے شہر کے اقلیتوں کی جانب سے کسی سیاسی جماعت کو اس قدر تائید حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کردیا کہ بلدی انتخابات میں کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد یا مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT