Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / پرانے شہر کی پسماندگی کے لیے مجلس ذمہ دار

پرانے شہر کی پسماندگی کے لیے مجلس ذمہ دار

محمد پہلوان کے بھائی سے ملاقات کی مدافعت ، محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 22 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے پرانے شہر کی پسماندگی کے لیے مجلس کو ذمہ دار قرار دیا ۔ محمد پہلوان کے بھائی سے ملاقات کی مدافعت کی ہے ۔ حیدرآباد کی ترقی پر ریاستی وزیر آئی ٹی مسٹر کے ٹی آر سے کھلے عام مباحث کا چیلنج کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر شیخ عبداللہ سہیل بھی موجود تھے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ پرانے شہر کی آج جو بھی پسماندگی ہے اس کے لیے مجلس ذمہ دار ہے ۔ لمبے عرصے سے مجلس لوک سبھا حیدرآباد کے علاوہ بیشتر اسمبلی حلقوں پر نمائندگی کررہی ہے ۔ کانگریس کی تائید سے مجلس کے امیدوار گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مئیر اور ڈپٹی مئیر بھی بنے لیکن انہوں نے پرانے شہر کی ترقی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے جس کی راست ذمہ داری مجلس پر عائد ہے ۔ عوام پرانے شہر کی پسماندگی پر مجلس سے استفسار کریں ۔ محمد پہلوان کے بھائی سے ملاقات پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے ملاقات کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھلے عام ملاقات کی گئی ہے ۔ اس میں چھپانے والی کوئی بات نہیں ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے ریاستی وزیر آئی ٹی مسٹر کے ٹی آر کی جانب سے کانگریس پر 60 سال کے د وران حیدرآباد کو ترقی نہ دینے اور 18 ماہی ٹی آر ایس کے دور حکومت میں بڑے پیمانے پر ترقی دینے کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2004-14 ، 10 سال کے دور حکومت میں کانگریس نے گریٹر حیدرآباد کی ترقی کے لیے 10 سال میں ایک لاکھ کروڑ روپئے سے ترقیاتی کام انجام دئیے ہیں وہ اس مسئلہ پر کے ٹی آر سے مباحث کے لیے تیار ہیں ۔ کے ٹی آر کرسچن بھون یا بنجارہ بھون میں مباحث کا اہتمام کرلیں یا ٹی آر ایس پارٹی ہیڈکوارٹر یا شہر کے کسی بھی حصہ میں مباحث کرلیں وہ بحیثیت انچارج وزیر حیدرآباد 2004-09 شہر کی ترقی پر مباحث میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں ۔ 2,478 کروڑ روپئے کے مصارف سے انٹرنیشنل ایرپورٹ 6,696 کروڑ روپئے کے مصارف سے 158 کیلو میٹر طویل نہرو آوٹر رنگ روڈ 600 کروڑ روپئے کے مصارف سے پی وی این آر ایکسپریس وے ، مولانا ابوالکلام آزاد حیدرآباد سجلاسرونتی اسکیم کے تحت گوداوری سے حیدرآباد کو 3375 کروڑ روپئے کے مصارف سے 10 ٹی ایم سی پانی حاصل کیا گیا ۔ دریائے کرشنا سے حیدرآباد کو پانی لایا گیا ۔ واٹر سپلائی کے لیے 1067 کروڑ روپئے سیوریج سیکٹر پر ، 398 کروڑ زیر زمین پائپ لائن پر ، 791 کروڑ موسیٰ ندی کی صفائی پر 339 کروڑ سیوریج کی ترقی پر 150 کروڑ 14.500 کروڑ روپئے کے مصارف سے باوقار میٹرو ٹرین پراجکٹ کا آغاز کیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT