Wednesday , March 29 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر کے بیشتر اے ٹی ایم بند ، بینکس بھی نقد رقومات ختم ہونے پر بند

پرانے شہر کے بیشتر اے ٹی ایم بند ، بینکس بھی نقد رقومات ختم ہونے پر بند

حیدرآباد و سکندرآباد میں کاروبار بند ، صورتحال کشیدہ ، عوام افراتفری کا شکار
حیدرآباد۔17نومبر(سیاست نیوز) دونوں شہروں کے بیشتر اے ٹی ایم مراکز آج بھی بند دیکھے گئے اور کئی بینکوں میں آج وقت سے پہلے ہی نقد رقومات نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے بینکوں کوبند کردیاگیا جس کے سبب معصوم شہریوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں بینکرس کی جانب سے آج قبل از وقت کاروبار بند کردیئے جانے کے بعد بعض مقامات پر صورتحال کشیدہ ہوگئی اور کئی گھنٹوں تک قطار میں ٹھہرنے والے عوام بینک ملازمین اور پولیس ملازمین سے الجھتے نظر آئے۔ شہر کے کئی بینکوں بالخصوص قومی بینکوں میں خدمات کے اوقات کار سے قبل بند کردیئے گئے جس سے عوام میں برہمی پیدا ہو گئی اور وہ اس حرکت پر احتجاج کرنے لگے۔بینک عہدیداروں نے بتایا کہ انہیں جو نقد رقومات وصول ہوئی تھیں ان کی تبدیلی کردی گئی لیکن آج وزارت فینانس کی جانب سے نوٹوں کی تبدیلی میں تخفیف کے اعلان کے ساتھ ہی قطاریں طویل ہوتی چلی گئیں جس کی وجہ سے نقد رقومات جلد ختم ہونے کے باعث بینک خدمات کے اوقات سے قبل بند کردیئے گئے۔صبح وزارت فینانس کی جانب سے پرانی کرنسی کی تبدیلی کی حد میں تخفیف کے اعلان کے ساتھ ہی قطاروں میں تیزی سے اضافہ ہوتا دیکھا گیا اور جن بینکو ںمیں قطاریں نہیں تھیں ان بینکوں میں بھی طویل قطاریں دیکھی جانے لگیں۔مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ بعض افراد اپنی غیر محسوب رقومات کی بے روزگار نوجوانوں کو استعمال کرتیہوئے تبدیلی کروا رہے تھے اور ان اطلاعات کی توثیق کے فوری بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ 4000روپئے جو تبدیل کئے جارہے تھے ان کی جگہ 18نومبر سے صرف 2000کے پرانے نوٹ تبدیل کئے جائیں گے۔بینک عہدیداروں کی جانب سے جلد بینک بند کئے جانے پر کئی علاقوں میں عوام نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی گھنٹوں تک قطاروں میں کھڑے رہنے کے باوجود انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شاہ علی بنڈہ‘ ملے پلی‘ مہدی پٹنم‘ آغاپورہ‘ چندرائن گٹہ کے علاوہ دیگر مقامات پر قبل از وقت بینک بند کردیئے گئے اور اے ٹی ایم تو کھولے ہی نہیں گئے جس کے سبب عوام میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔قومیائے ہوئے بینکوں کے علاوہ سرکاری بینکوں کی یہ حالت ہے جبکہ خانگی بینک اور کو آپریٹیو بینکوں میں خدمات اوقات کار کے مطابق دیکھی جا رہی ہیں اور شہر کے کئی پوسٹ آفس پر شام 6بجے کے بعد بھی رقم موجود رہنے کی صورت میں نوٹوں کی تبدیلی سے منع نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ نئے نوٹ ختم ہونے تک پوسٹ آفس میں خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔بینک ملازمین کا کہنا ہے کہ کام میں اضافہ کے سبب اتنی طویل قطاروں سے تیزی کے ساتھ نمٹنا مشکل ہوتا ہے اور ایسی صورت میں صیانتی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے سب کویکساں بینک میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی اسی لئے نقد رقومات ختم ہوتے ہی خدمات ہی بند کردی جا رہی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT