Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر کے عوام کئی مسائل کا شکار ‘ سیاسی دباؤ میں خاموشی اختیار کرنے پر مجبور

پرانے شہر کے عوام کئی مسائل کا شکار ‘ سیاسی دباؤ میں خاموشی اختیار کرنے پر مجبور

آلودہ پانی کی سربراہی ‘ برقی سربراہی میں خلل اور کئی بلدی مسائل ۔ عوامی نمائندوں کو کوئی پرواہ نہیں
حیدرآباد۔21جون (سیاست نیوز) پرانے شہر میں عوام کو ہونے والی مشکلات کے متعلق منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی پر عوام میں شدید برہمی پائی جاتی ہے لیکن وہ سیاسی دباؤ کے آگے خاموش ان مسائل کو برداشت کرتے جا رہے ہیں۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں عوام کو نہ صرف بلدی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ انہیں آلودہ پانی اور برقی سربراہی میں پیدا ہونے والے خلل کے سبب مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور منتخبہ عوامی نمائندوں کو ان مسائل کی پرواہ نہیں ہے۔ پرانے شہر کے علاقوں کالا پتھر ‘ تاڑبن‘ شاہ علی بنڈہ ‘ قاضی پورہ‘ شاہ گنج ‘ حسینی علم ‘ خلوت ‘ انجن باؤلی‘ فلک نما کے علاقوں میں آلودہ پانی کی سربراہی معمول بن چکی ہے اور عوام محکمۂ آبرسانی کی جانب سے سربراہ کئے جانے والے پانی کا استعمال نہیں کر پا رہے ہیں چونکہ جو پانی سربراہ کیا جا رہا ہے وہ انتہائی بدبودار ہے۔پرانے شہر کے علاقوں میں جو حالات پیدا ہو رہے ہیں اس کا اندازہ لگانا دشوار نہیں ہے لیکن قیادت کی معنی خیز خاموشی کے باعث عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ برقی سربراہی میں خلل‘ آلودہ پانی کی سربراہی ‘ کچہرے کی عدم نکاسی کے علاوہ دیگر مسائل کے باوجود منتخبہ عوامی نمائندوں کے اختیار کردہ رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں عوام کو درپیش مسائل کی پرواہ نہیں ہے اور وہ خود نہیں چاہتے کہ یہ مسائل حل ہوں۔شہر حیدرآباد میں ان مسائل کا شکار عوام کا کہنا ہے کہ مسلم قیادت کے نام پر کی جانی والی حکمرانی میں اگر مسلمانوں کو ماہ رمضان المبارک کے دوران ہی سہولتوں کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جاتی تو ایسی صورت میں ان منتخبہ نمائندوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ پرانے شہر کے علاقہ خلوت سے تعلق رکھنے والے ایک معمر شہری نے ان حالات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم قائدین و حکمرانوں کو خلیفۂ دوم حضرت عمر بن الخطاب ؓ کی تاریخ کا مشاہدہ کرنا چاہئے تاکہ انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہو سکے۔ امیر المومنین حضرت عمر ؓ ان پر عائد ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے بھی خوفزدہ ہوا کرتے تھے اور ان کے دور خلافت میں وہ ہر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کے متمنی تھے لیکن آج ان کے دور کی دہائی دیتے ہوئے عوام کے ووٹ حاصل کرنے والوں کو شائد خوف آخرت باقی نہیں رہا۔ اسی لئے وہ عوام کو مسائل میں مبتلاء کرتے ہوئے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ پرانے شہر کے علاقوں میں چند ایک کارپوریٹرس ہمہ تن مصروف نظر آرہے ہیں اور رات دیرگئے عوام کے درمیان رہتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ سے اس طرح کی سرگرمیوں کی توقع کرنا بھی فضول نظر آرہا ہے۔ سحر و افطار کے وقت برقی سربراہی میں خلل اور آلودہ پانی کی سربراہی کی متعدد شکایات کے باوجود مسئلہ حل نہ کئے جانے کے سبب عوام نے پانی کے استعمال کو ترک کردیا ہے۔ مسلمانوں کی قیادت کے دعویدار قائدین کو چاہئے کہ وہ 5سال میں دو مرتبہ خلیفۂ دوم ؓ کے طرز حکمرانی کو یاد کرنے کے بجائے ان کے طریقۂ کار پر خود عمل پیرا ہوں اور اپنے منتخبہ نمائندوں کو بھی سیرت حضرت عمر ؓ سے واقف کرواتے ہوئے ان میں اس بات کا احساس پیدا کریں کہ حکمراں کے ساتھ بروز محشر کیا سلوک ہوگا اور حکمراں سے کتنا سخت حساب لیا جائے گا؟ پرانے شہر کے عوام اب یہ کہنے لگے ہیں کہ مسائل پر جمہوری انداز میں سوال کئے جانے پر سیاسی مظالم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر قیادت واقعی دیندار ہے تو اسے ہوش میں آتے ہوئے عوامی مسائل کو حل کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ آج بھی پرانے شہر کے علاقہ پرانی حویلی ‘ دیوان دیوڑھی ‘ چھتہ بازار ‘ لکڑکوٹ کے علاقوںمیں زائد از ایک گھنٹہ برقی سربراہی منقطع رہی اور محکمہ برقی کی جانب سے جاری کردہ شکایت کے مجاز عہدیداروں کے نمبرات پر فون کئے جانے پر عہدیدار دوسرا نمبر دیتے ہوئے اس نمبر پر فون کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ عوام کی جانب اس نااہلی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ جو حکومت اور قیادت عوام کو معیاری برقی اور صاف پینے کا پانی فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے اس قیادت اور حکومت سے عوام کیا امید رکھیں؟ جن لوگوں کو عوام کو پہنچائی جانے والی سہولتوں کے متعلق فکر لاحق نہیں ہے ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ قوم کی معاشی ‘ تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی فکر کرے گی؟

TOPPOPULARRECENT