Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر کے قومیائے ہوئے بینکس سے عوامی شکایتیں

پرانے شہر کے قومیائے ہوئے بینکس سے عوامی شکایتیں

متعدد نمائندگی کے باوجود شکایتوں کے ازالہ سے قاصر ، بینک حکام کو توجہ دینے کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 10 ستمبر (سیاست نیوز) پرانے شہر کے علاقوں میں موجود قومیائے ہوئے بینکوں میں صارفین کو بہتر سہولتوں کی عدم فراہمی کی شکایت عام ہوتی جارہی ہے۔ پرانے شہر کے کئی قومیائے ہوئے بینک بالخصوص اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کی کئی شاخوں میں عوام کیلئے بہتر سہولتوں کی عدم موجودگی کی شکایات کے باوجود عہدیدار مسائل کو حل کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں اور بعض مقامات پر عہدیداروں کی جانب سے واضح طور پر یہ کہا جارہا ہیکہ یہ معاملات ان کے اختیار کی بات نہیں ہے اسی لئے وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد مغلپورہ میں صارفین کی تعداد میں اضافہ اور جگہ کی تنگی کے باعث ہونے والی مشکلات سے متعدد مرتبہ حکام کو واقف کروائے جانے کے باوجود مسئلہ کے حل کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ بینک حکام کی اس لاپرواہی کے سبب صارفین کو نقصان ہونے کا خدشہ ہے اور ان خدشات کے اظہار کے بعد ہی کارروائی نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہیکہ قومیائے بینکوں کو پرانے شہر کے علاقوں میں صرف تجارت سے دلچسپی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان علاقوں کے صارفین کو بہتر سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک بہادرپورہ کے صارفین نے بھی شکایت کی ہے کہ بینک میں عملہ کی جانب سے صارفین کے ساتھ نامناسب رویہ کے علاوہ بیٹھنے کے انتظامات نہ ہونے کی متعدد شکایات کی گئی لیکن تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ قومیائے بینکوں کے اس طرزکارکردگی اور بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کے سبب پرانے شہر کے صارفین بین الاقوامی بینکوں کی طرف راغب ہورہے ہیں اور غیرمقیم ہندوستانیوں کی بڑی تعداد قومیائے بینکوں کو خیرآباد کرتے ہوئے ملٹی نیشنل بینکوں کی خدمات سے استفادہ کررہی ہے۔ ہر ماہ کے ابتدائی ایام میں قومیائے ہوئے بینکوں میں عوام کی طویل قطاریں دیکھی جاتی تھی لیکن اب تقریباً ہر بینک میں روزانہ ہی عوام کی طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی مسائل کے حل کے لئے اقدامات نہ کئے جانے سے عوام میں برہمی پائی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT