Tuesday , September 19 2017
Home / Top Stories / پرانے نوٹوں کی تبدیلی کیلئے بینکوں میں عوام کا ہجوم

پرانے نوٹوں کی تبدیلی کیلئے بینکوں میں عوام کا ہجوم

روز مرہ ضروریات زندگی کے حصول کیلئے مشکلات ، اے ٹی ایم بھی کام نہیں کررہے ، طویل قطار سے اکتاہٹ

نئی دہلی ۔ /10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک بھر میں پرانے نوٹوں کی تبدیلی کے لئے بینکوں میں عوام کا زبردست ہجوم دیکھا گیا ۔ ایک دن کے وقفہ کے بعد آج بنک جیسے ہی کھل گئے عوام کی طویل قطاریں دیکھی گیئں ۔ عوام اپنی روز مرہ ضروریات زندگی کے حصول کے لئے بھی مشکلات سے دوچار ہورہے تھے ۔ پرانے نوٹوں کو بدل کر نئے نوٹوں کا حصول ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہے ۔ اے ٹی ایم بھی بند تھے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کی شب 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کے چلن کو بند کردینے کا اعلان کیا تھا ۔ کالے دھن پر قابو پانے کی کوشش میں بڑی قدر والی کرنسی کو منسوخ کرتے ہوئے نئی کرنسی متعارف کروائی گئی ہے ۔ صرف چند ایک اے ٹی ایم ہی کام کررہے تھے ۔ ماباقی تمام اے ٹی ایم کل سے مکمل طور پر کام کریں گے ۔ ان اے ٹی ایم سے پرانے نوٹوں کو نکال کر نئے نوٹوں سے بھردیا جائے گا ۔ جس کے بعد عوام اپنی رقم حاصل کرسکیں گے ۔ نوٹوں میں 500 روپئے اور 2000 روپئے کے نوٹ ہیں ۔ عوام نے شکایت کی ہے کہ انہیں بنک کھلنے سے پہلے ہی طویل قطار میں ٹھہرنا پڑا ہے ۔ عوام کو پے ان سلپ یا چیکس کے استعمال کے ذریعہ اپنے بنک سے رقم نکالنے کی سہولت دی جارہی ہے ۔ بینکوں کے علاوہ منتخب پوسٹ آفسوں میں بھی پرانے نوٹوں کو تبدیل کردیا جارہا ہے ۔ عوام کو 2000 روپئے کی نئی نوٹ ملنے کے بعد مسرور دیکھا گیا اور اس نئی نوٹ کے ساتھ انہوں نے تصاویر بھی کھینچاوائی ، اپنے ہاتھوں میں نئی نوٹوں کو دیکھ کر کیمرہ کے سامنے خوشی کا اظہار کررہے تھے ۔ تاہم بعض افراد نے شکایت کی کہ بینکوں سے رقومات نکالنے یا نوٹوں کی تبدیلی کے لئے پابندیاں عائد کی گئی ہیں ۔ حکومت کو اس طرح کا قدم اٹھانے سے قبل مکمل تمام انتظامات کرنے کی ضرورت تھی ۔ جیسے اے ٹی ایم مشینوں میں نئے نوٹوں کا ذخیرہ کرنا ضروری تھا ۔ ہر بنک میں کارآمد شناحتی ثبوت پیش کرنے کے بعد فی شخص 4000 روپئے کی رقم دی جارہی ہے اور یہ رقم کرنسی کی کسی  بھی نوعیت میں دی جائے گی ۔ اس طرح بنک اکاؤنٹ میں بھی رقم جمع کرائی جاسکتی ہے ۔ بنکوں میں زائد کاونٹرس قائم کئے گئے ہیں تاکہ رقم کی تبدیلی میں آسانی ہو اور چیک یا رقم نکالنے والی سلپ کے ذریعہ بنک اکاؤنٹ سے رقم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی ۔ ایک دن میں صرف 10 ہزار روپئے دیئے جائیں گے اور ایک ہفتہ میں 20 ہزار روپئے حاصل کرنے کی حد مقرر کی گئی ہے ۔ بنکوں کے علاوہ اے ٹی ایم میں مکمل کارکرد ہونے کے ساتھ ہی /18 نومبر 2016ء تک رقم نکالنے کی حد  روزانہ 2000 روپئے ہوگی اور اس میں /19 نومبر سے فی کارڈ فی دن 4000 روپئے نکالا جاسکے گا ۔ بنکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رات 9 بجے تک کام کریں ۔ آج سے 3 دن تک بنک ہجوم پر قابو پانے کے لئے کام کریں گے ۔ مرکزی حکومت نے آٹھ نومبر کی درمیانی شب سے پانچ سو اور ایک ہزار روپئے کے نوٹوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ان نوٹوں کو بدلنے کے لئے کئی طرح کے اقدامات کا اعلان کیا تھا تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ۔

حکومت ایک ہزار روپئے کا نوٹ فی الحال مکمل طور پر بند کررہی ہے جبکہ پانچ سو کا نیا نوٹ چلن میں آئے گا اور دو ہزار روپئے کا نوٹ بھی پہلی بار شروع کیا جارہا ہے ۔ حکومت نے روزانہ چار ہزار روپئے تک بینکوں میں پانچ سو اور ایک ہزار روپئے کے نوٹ بدلنے کی سہولت دی ہے ۔ یہ سہولت /30 ڈسمبر تک جاری رہے گی ۔ اس کے لئے لوگوں کو اپنی شناخت کے طور پر آدھار کارڈ ، ڈرائیونگ لائسنس ، ووٹر شناختی کارڈ یا کوئی اور سرکاری ثبوت کے طور پر دینے ہوں گے ۔ جمنا پار کے پریت وہار ، سواستھ وہار اور دیگر مقامات پر دیگر بینکوں کے مقابلے میں اسٹیٹ ببینک آف انڈیا کی شاخوں پر زیادہ لمبی قطاریں دیکھی گیئں ۔ ڈاک خانوں پر بھی لوگ گھنٹوں پہلے جمع ہوگئے ۔ نوٹوں کو بند کرنے کے اعلان کے بعد /9 نومبر کو بینک بند رکھے گئے تھے ۔ لوگوں کی سہولت کے لئے /12 اور /13 نومبر ہفتہ اور اتوار کو بھی بینک کھلے رہیں گے ۔ عام طور پر دوسرے ہفتہ اور اتوار کو بینک بند رہتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT