Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / پرسنل لاز کی تشکیل دستوری بنیادوں پر ہونی چاہیئے:جیٹلی

پرسنل لاز کی تشکیل دستوری بنیادوں پر ہونی چاہیئے:جیٹلی

جوش نہیں‘ ہوش سے کام لیں:بہارکے ریاستی وزیر‘یکساں سیول کوڈ پرحکومت کی نیت مشکوک : جے ڈی (یو)
نئی دہلی ۔ 16اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے طلاق ثلاثہ پر جاری مباحث کے دوران کہا کہ پرسنل لاز دستوری بنیادوں پر قائم ہونا چاہیئے اور صنفی مساوات ‘ وقار کے ساتھ جینے کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے فیس بک پر اپنا تبصرہ طلاق ثلاثہ اور حکومت کا حلف نامہ کے زیرعنوان شائع کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں دستوری بنیادوں پر شکایات منظر عام پر آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت اپنی پالیسی پر دستور کے مطابق نظرثانی پر مجبور ہوگئی ہے ۔ حکومت بہارمیں اقلیتی امور کے وزیر اورراشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈر پروفیسر عبدالغفور نے مسلم پرسنل لا میں حکومت کی مداخلت اور سیکولر جماعتوں کے رویے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کو اس سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے اور جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا چاہئے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت کا مسلم پرسنل لا کے تئیں موقف سامنے آچکا ہے اور وہ اس میں مداخلت کرنے پر آمادہ نظر آرہی ہے

 

اور اس کا مقصد یہی ہے کہ مسلمان اپنی تعلیمی، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کو چھوڑ کر اس بحث میں الجھ جائیں۔ جنتادل (یو) کے سینئر قائد مشہور سماجی کارکن اور اقراء انٹر نیشنل اسکول بنگلور کے چیرمین انجنئیر حاجی نظیر احمد نے یونیفارم سول کوڈ کے سلسلے میں حکومت کے اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پہلے حکومت یکساں سول کوڈ کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کا نظام ناممکن ہے کیوں کہ یہاں ایک دو نہیں تقریباً تین سو پرسنل لا ہیں۔پہلے حکومت کو یہ واضح کرنا چاہئے کہ کس پرسنل کو اپنائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کہیں کہیں ہندوستان میں رواج ہی پرسنل لاہے ۔ گوا میں الگ پرسنل لا ہے اور پڈوچیری (پانڈیچیری) میں فرینچ لا ہے ۔ ایسے میں حکومت کس کو اپنائے گی اور کسی ایک کواپنائے گی تو کیا 299پرنسل لا والے اسے قبول کریں گے ؟انہوں نے کہ دفعہ 44 کوئی’ فنڈامنٹل رائٹ’ نہیں ہے کہ اس پر عمل ضرور ی ہو اور آئین کے خالق بابا صاحب امبیڈکر نے بھی اسے اختیاری زمرے میں رکھا تھا۔ لیکن فنڈا منٹل رائٹ میں روٹی ، کپڑا مکان اور تعلیم شامل ہے تو پہلے حکومت کو فنڈامنٹل رائٹ کو پورا کرنا چاہئے نہ کہ غیر ضروری یکساں سول کوڈ پر اپنی ساری توجہ مرکوز کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم پرسنل لا قرآن اور حدیث پر مشتمل لا ہے جس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT