Tuesday , September 19 2017
Home / دنیا / پرنب مکرجی اسرائیل پہونچ گئے ہولو کاسٹ میموریل کا دورہ، مہلوکین کو خراج

پرنب مکرجی اسرائیل پہونچ گئے ہولو کاسٹ میموریل کا دورہ، مہلوکین کو خراج

یروشلم ۔ 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور اسرائیل کے مابین بڑھتے روابط کے مابین ایک نئے سنگ میل کو عبور کرتے ہوئے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سہ روزہ دورہ پر آج اسرائیل پہونچ گئے۔ وہ یہاں کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی صدر ہیں۔ یہاں آمد کے ساتھ ہی پرنب مکرجی نے ہولو کاسٹ مہلوکین کی یادگار پر پھول چڑھائے۔ اسرائیلی صدر روین ریولن کے ہمراہ پرنب مکرجی نے میموریل کا دورہ کیا اور وزیٹرس بک میں اپنے تاثرات درج کئے۔ کل وہ اسرائیلی پارلیمنٹ نسیٹ سے خطاب کریں گے جو کسی دورہ کنندہ شخصیت کے لئے بہت ملنے والا اعزاز ہے۔ صدر روین ریولن کی جانب سے استقبالیہ ترتیب دیا جائے گا اور وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ظہرانہ کا اہتمام کیا ہے۔ اِس کے علاوہ یروشلم میں حبرون یونیورسٹی کی جانب سے اُنھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی جائے گی۔ صدر ریولن نے پرنب مکرجی کے اِس دورہ کو تاریخی سیاسی سنگ میل سے تعبیر کیاہے۔
ہندوستان اور فلسطین کے’’تین ستونوں‘‘ پر مشتمل
مستحکم تعلقات : صدرجمہوریہ
راملہ ۔ 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج ایک انتہائی اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام نہ صرف اس خطہ کیلئے بلکہ ہندوستان کے مفاد میں بھی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی تعلقات کو استحکام بخشنے ’’تین ستون‘‘ والے فرم ورک کی ضرورت پر زور دیا جو غزہ میں ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی سنٹر کھولے جانے کے علاوہ ہے۔ یاد رہے کہ صدرجمہوریہ ہندوستان کے ایسے پہلے صدر ہیں جنہوں نے فلسطین کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (ITEC) اسکالر شپ پروگرام جو فلسطینیوں کیلئے مختص ہے، میں بھی اضافہ کا اعلان کیا جو القدس یونیورسٹی ایک ہندوستانی شعبہ قائم کرتے ہوئے سالانہ طور پر 100 تک بڑھا دیا جائے گا۔ مشرقی یروشلم کی ابودیس یونیورسٹی میں صدر موصوف کو ’’ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا جس کے بعد اپنے خطاب کے دوران انہوں نے مذکورہ بالا بیان اور اعلان کیا۔ تقریب میں صدرجمہوریہ کو امن کے پیغامبر سے تعبیر کیا گیا۔ صدر موصوف نے کہا کہ فلسطینی کاز کی ہندوستان نے ہمیشہ سے حمایت کی اور فلسطینیوں کی ترقی اور خوشحالی کو دیکھ کر ہندوستان ان کیلئے مزید کچھ کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ تین اہم ستونوں کا انہوں نے ایک بار پھر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلا ستون قریب تر سیاسی باہمی ربط، دوسرا معاشی طور پر ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور تعلیمی تعاون اور تیسرے نمبر پر وسیع تر ثقافتی رابطے اور عوام سے عوام کا تبادلہ شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT