Monday , August 21 2017

پرندے

اک پیڑ پہ ہے کتنے پرندوں کا بسیرا
کہتا ہے کوئی کہ یہ پیڑ ہے میرا
ہیں رنگ جدا سب کے الگ بولیاں سب کی
مل جل کے رہا کرتی ہیں یہ ٹولیاں سب کی
ہر صبح نکل پڑتے ہیں روزی کی طلب میں
حاصل کریں رزق اپنا یہ خوبی ہے سب میں
سردی ہو کہ گرمی ہو یا بارش کا زمانہ
جنگل میں نکل پڑتے ہیں چگنے کو یہ دانہ
اڑتے ہی چلے جاتے ہیں کچھ دور ہوا میں
یہ سانس لیا کرتے ہیں آزاد فضاء میں
ہر صبح کیا کرتے ہیں تسبیح خدا کی
تعلیم دیا کرتے ہیں بچوں کو وفا کی
اے سیفؔ بہت دور ہیں نفرت سے پرندے
باتیں کیا کرتے ہیں محبت سے پرندے
اک پیڑ پہ ہے کتنے پرندوں کا بسیرا
کہتا ہے کوئی کہ یہ پیڑ ہے میرا

TOPPOPULARRECENT