Wednesday , April 26 2017
Home / Mera Column / پروفیسر رشیدالدین خاں

پروفیسر رشیدالدین خاں

میرا کالم             مجتبیٰ حسین
کرم فرما تو ہمارے بہت سے ہیں لیکن ہم پر کرم فرمانے کا انداز سب کا مختلف ہے ۔ چھ سات برس پہلے ہم پاکستان گئے تھے تو ہم نے اپنے دو پاکستانی کرم فرماؤں خواجہ حمید الدین شاہد اور مشفق خواجہ کے انداز کرم کے بارے میں لکھا تھا کہ خواجہ حمید الدین شاہد کرم فرماتے ہیں تو لگتا ہے جیسے رحم فرما رہے ہیں اور مشفق خواجہ کرم فرماتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ستم فرما رہے ہیں۔ گویا ہمارے بہت سے کرم فرما کرم فرمانے کی آڑ میں کچھ اور ہی فرماتے رہتے ہیں۔ پروفیسر رشیدالدین خاں ہمارے اُن کرم فرماؤں میں سے ہیں جو کرم فرماتے ہیں تو تب بھی لگتا ہے کہ کرم ہی فرما رہے ہیں، کچھ اورنہیں فرما رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ہم پروفیسر رشیدالدین خاں کے ہاں گئے تو دیکھا کہ بہت سارے ایسے پرانے کاغذات بکھرائے بیٹھے ہیں جن کا تعلق اُس مرحوم حیدرآباد سے تھا جس کے جانے کی جھلک ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی ۔ مہاراجہ سرکشن پرشاد کے وہ خطوط تھے جو انہوں نے پروفیسر رشیدالدین خاں کے والد نواب اکبر یار جنگ کے نام لکھے تھے ۔ آغا حیدر حسن کی بھی کچھ تحریریں تھیں۔ سروجنی نائیڈو کے گھر منعقد ہونے والی محفلوں کے دعوت نامے تھے ۔ بہادر یار جنگ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریریں تھیں۔ وہ نہایت جتن کے ساتھ انہیں سینت سینت کے فائلوں میں رکھتے جارہے تھے ۔ ہمیں دیکھا تو بولے ۔ ’’اچھا ہوا تم آگئے ۔ آج میں اپنی زندگی کے اس قیمتی اثاثہ کو سمیٹ رہا تھا جو مجھے بہت عزیز ہے ۔ ملکوں ملکوں گھومنے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے کے باوجود کرۂ ارض کے ایک چھوٹے سے قطعہ اراضی پر آباد یہ شہر حیدرآباد اور یہاں کے لوگ نہ جانے کیوں مجھے ہمیشہ یاد آتے ہیں‘‘۔ ہم نے کہا ’’آپ کے اس مشکل سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ آپ خود حیدرآبادی ہیں‘‘۔ ہنس کر بولے ’’میاں ! یہ جواب اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ تم سمجھ رہے ہو۔ کیسا عجیب و غریب کلچر تھا اس شہر کا ۔ زندگی بھر پروفیسر بنے رہنے اور تدریس کے پیشہ سے وابستہ رہنے کے باوجود اب سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میں نے کتابوں سے اتنا نہیں سیکھا جتنا کہ اس شہر کی تہذیب سے سیکھا ہے‘‘۔

اس پر ہم نے انہیں ایک دانا کا قول یاد دلایا کہ آدمی زندگی میں ایک بار پروفیسر بن جائے تو زندگی بھر پروفیسر ہی کہلاتا ہے ، چاہے بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگ جائے ۔ یہ سن کر پروفیسر رشیدالدین خاں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا جو وہ عموماً ایسی باتیں سن کر لگاتے ہیں ۔ وہ اپنے علم و فضل ، گہری بصیرت اور وسیع تجربہ کی بنا پر ہمارے بزرگ تو ہیں ہی لیکن اس اعتبار سے بھی ہمارے بزرگ قرار پاتے ہیں کہ وہ ہماری نوجوانی کے دو دوستوں پروفیسر بشیرالدین احمد (موجودہ وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور پروفیسر وحیدالدین مرحوم کے بڑے بھائی ہیں۔ یوں بھی خیر سے اب 71 برس کے ہوگئے ہیں لیکن آنکھوں میں نوجو انوں کی سی چمک اور دل میں عاشقوں کا سا حوصلہ رکھتے ہیں اور اس حوصلہ کی بناپر وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کے دوستوں کو بھی اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ تیس پینتیس برس پہلے کی بات ہے کہ ہم اکبر یار جنگ کی دیوڑھی میں جو ترپ بازار میں واقع تھی اور جہاں اب ایک شاپنگ کامپلکس بن چکا ہے ، پابندی سے جایا کرتے تھے۔ پروفیسر رشیدالدین خاں ان دنوں عثمانیہ یونیورسٹی میں تاریخ اور سیاسیات کے لکچرار تھے ۔ ہمارا اُن سے رشتہ سعادت مندی کا تھا جو حیدرآباد میں قیام کے زمانہ میں کبھی ’’علیک سلیک‘‘ سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا ۔ ان کے والد ا کبر یار جنگ سولہ سال کی عمر میں قائم گنج (اترپردیش) سے حیدرآباد آئے تھے اور پھر یہیں کے ہورہے ۔ قانون کے شعبہ میں اکبر یار جنگ نے جو عزت حاصل کی وہ حیدرآباد میں بہت کم کے حصہ میں آئی ۔ اگرچہ نواب اکبر یار جنگ نے قائم گنج میں اپنی عمر کے صرف سولہ برس گزارے تھے اور باقی ساری عمر حیدرآباد میں گزاری لیکن اس کے باوجود قائم گنج جاتے تو کہتے تھے کہ لو بھئی ہم اپنے گھر آگئے جبکہ پروفیسر رشیدالدین  خاں نے حیدرآباد میں پیدا ہونے کے بعد لگ بھگ تین دہے حیدرآباد میں گزارے اور ادھر چار دہوں سے حیدرآباد سے باہر مقیم ہیں اور اکثر اپنی علمی مصروفیات کے سلسلہ میں بیرونی دوروں پر ملک سے باہر بھی جاتے ہیں مگر حیدرآباد سے اتنے لمبے عرصہ تک دور رہنے کے  باوجود واب بھی حیدرآباد کو ہی اپنا وطن سمجھتے ہیں۔ وہ حیدرآباد کے گرامر اسکول اور مدرسہ عالیہ کی پیداوار ہیں۔ بعد میں انہوں نے علی گڑھ سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان کامیاب کیا اور نظام کالج میں داخل ہوگئے ۔ علی گڑھ میں پروفیسر رشید احمد صدیقی اور نظام کالج میں آغا حیدر حسن ان کے اردو کے استاد رہے ۔ اپنی اردو دانی اور انگریزی دانی کے بارے میں نہایت فخر سے کہتے ہیں کہ میں نے اردو آغا حیدر حسن اور انگریزی پروفیسر حسین علی خاں سے سیکھی ہے ۔ آغا حیدر حسن نے آج سے پچاس برس پہلے کلاس روم میں اُن کے جواب نامہ کو دیکھ کر اُن کے بڑے آدمی بننے کی پیشن گوئی کردی تھی ۔ ویسے آ ٹھ دس سال کی عمر میں  انہیں دیوان غالب زبانی یاد تھا (اب بھی یقیناً یاد ہوگا) حیدرآباد کو وہ جب بھی یاد کرتے ہیں تو ان کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک پیدا ہوجاتی ہے ۔ کہتے ہیں حیدرآباد کی تہذیب ایسی جامع اور مکمل تھی کہ اپنے آپ ہی نوجوانوں کی ہمہ گیر ذہنی نشو و نما ہوجاتی تھی۔ اگرچہ جاگیر دارانہ ماحول تھا لیکن ہر طرف کچھ ایسی روشن خیالی تھی کہ کبھی جاگیردارانہ ماحول میں رہنے کا احساس نہیں ہوا ۔ حیدرآباد میں مذہبیت ضرور تھی لیکن فرقہ پرستی اور تعصب بالکل نہیں تھا ۔ کہنے لگے ’’بہادر یار جنگ مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما تھے۔ میرے والد کو چچا کہتے تھے اور اکثر ان کے پیچھے نماز بھی پڑھتے تھے ۔ سروجنی نائیڈو بھی بہادر یار جنگ کو بہت عزیز رکھتی تھیں۔ حیدرآباد کی تہذیب، وسیع المشربی اور روشن خیالی سے عبارت تھی ۔ آج ہم ان عناصر کو ملک میں پھر سے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں ان کے سرے نہیں ملتے‘‘۔

رشیدالدین خاں ابتداء ہی سے تدریس کے پیشہ سے وابستہ رہے ہیں۔ برسوں جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اور صدرنشین رہے ۔ بارہ برسوں تک راجیہ سبھا کے رکن رہے ۔ انہیں جو اعزازات ملے ہیں انہیں بیان کرنے کے لئے ایک دفتر چاہئے ۔ ان دنوں وہ جامعہ ہمدرد میں وفاقی مطالعات کے شعبہ کے اعزازی ڈائرکٹر ہیں۔ سیر و سیاحت بھی انہوں نے بہت کی ہے ۔ دنیا کے پچاس سے زیادہ ممالک میں جاچکے ہیں۔ (جغرافیہ میں ہم یوں بھی کمزور ہیں۔ ان کی سیر و سیاحت کے  حوالہ سے ہی ہمیں پتہ چلا کہ دنیا میں پچاس سے زیادہ ملک آباد ہیں)۔
پروفیسر رشیدالدین خاں ہمیں اس لئے بھی پسند ہیں کہ وہ ملک کے اُن چند دانشوروں اور اہل علم میں سے ہیں جو ا پنے وسیع علم کا اطلاق عملی زندگی پر بھی کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وہ علم برائے علم کے نہیں بلکہ علم برائے عمل کے قایل ہیں۔ ایسا تجزیاتی ذہن رکھتے ہیں کہ اپنی سوچ کے ذریعہ کسی بھی مسئلہ کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ ادھر کئی برسوں سے وہ ہندوستان کے وفاقی ڈھانچہ کے اجزائے ترکیبی کا جائزہ لینے اور کثرت میں وحدت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں اور اس ضمن میں ان کے  کئی مقالے اور تصانیف شائع ہوچکی ہیں۔ منی شنکر ایر نے کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک مضمون میں دُنیا کی اُن دس بہترین کتابوں کا ذکر کیا تھا جن سے وہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں ایک کتاب پروفیسر رشیدالدین خاں کی بھی ہے ۔ ان کی ایک ادا جو مجھے بہت پسند ہے وہ اردو سے ان کی بے پناہ محبت ہے ۔ اگرچہ ان کا زیادہ تر عملی سروکار انگریزی زبان سے رہتا ہے لیکن وہ معدودے چند دانشوروں میں سے ہیںجو کسی اردو رسالہ یا اخبار کیلئے مضمون لکھتے ہیں تو راست اردو میں ہی لکھتے ہیں۔ انگریزی میں لکھ کر اس کا اردو میں ترجمہ نہیں کرتے ۔ جن دنوں ہم نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ میں اردو شعبہ کے سربراہ تھے تو ہمارے ادارہ نے ان کی ایک کتاب انگریزی میں شائع کی تھی ۔ جب اس کے اردو ترجمہ کا مرحلہ درپیش آیا تو پروفیسر رشیدالدین خاں نے کہا کہ وہ خود اس ترجمہ پر نظرثانی کریں گے ۔ مسودہ کے ایک ایک اردو لفظ پر انہوں نے گہرا غور کیا ۔ بات بات پر صلاح و مشورہ کرتے تھے ۔ نتیجہ میں کتاب کا اردو ایڈیشن شائع ہوا تو یوں لگا جیسے کتاب انگریزی سے ترجمہ نہیں کی گئی ہے بلکہ راست طور پر اردو میں ہی لکھی گئی ہے ۔ ان میں علمی کام کرنے کی بے پناہ لگن اور توانائی ہے اس لئے وہ بھرپور زندگی جینے کا سلیقہ بھی جانتے ہیں۔ خدا کے فضل سے وہ حسن پرستی کے جذبہ سے بھی معمور ہیں ۔ ایک بار وہ ہمارے گھر کھانے پر مدعو تھے ۔ اردو کی ایک خوش شکل روسی اسکالرجو ہماری دوست بھی ہیں، کھانے میں شریک تھیں۔ یہ جانے بغیر کہ روسی اسکالر اردو جانتی ہیں ۔ پروفیسر رشیدالدین خاں نے ان کے حُسن کی تعریف میں اردو شعراء کے شعر سُنانے شروع کردیئے ۔ چار پانچ شعروں کے بعد جب روسی اسکالر نے خالص اردو میں کہا ’’آپ کی ذرہ نوازی اور حُسن پرستی کا شکریہ ‘‘ تو رشیدالدین خاں نے زور دار قہقہہ لگایا اور کہا ’’اچھا تو آپ کو پتہ چل گیا کہ آپ کتنی حسین ہیں۔ ہم تو آپ کو حسن بے پرواہ کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے‘’۔ ہمیں ان کے منہ سے یہ باتیں بہت اچھی لگتی ہیں کیونکہ سترّ سال کے ہوجانے کے باوجود وہ اب بھی ایک وجیہ و شکیل شخصیت کے مالک ہیں۔
(1995 ء)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT