Sunday , May 28 2017
Home / شہر کی خبریں / پروفیسر کودنڈارام کا سیاسی ایجنڈہ، حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش

پروفیسر کودنڈارام کا سیاسی ایجنڈہ، حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش

جے اے سی کے اشاروں سے سیاسی عزائم آشکار، ٹی آر ایس ایم پی ونود کمار کا ردعمل

حیدرآباد۔/4مارچ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے تلنگانہ جے اے سی صدرنشین کودنڈا رام پر تنقید کی کہ وہ سیاسی ایجنڈہ کے ساتھ حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ونود کمار نے کہا کہ کودنڈا رام اور ان کے ساتھیوں کا ایجنڈہ واضح ہوچکا ہے اور وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے اشاروں پر کام کررہے ہیں۔ جے اے سی قائدین نے خود بھی عملی سیاست میں حصہ لینے کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگار نوجوانوں کی ریالی کے سلسلہ میں جے اے سی کا رویہ قابل مذمت ہے۔ ہائیکورٹ کی جانب سے متبادل جگہ فراہم کرنے کے باوجود جے اے سی نے اندرا پارک سے ریالی نکالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ کودنڈا رام کو مسائل کی یکسوئی سے زیادہ حکومت کو نقصان پہنچانے کی فکر ہے۔ اگر عدالت کے مقرر کردہ مقام پر ریالی منعقد ہوتی اور بیروزگار نوجوانوں کے مسائل پیش کئے جاتے تو یقینی طور پر حکومت ان کی یکسوئی پر توجہ دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ عوامی مسائل کے سلسلہ میں ہمیشہ آگے رہے ہیں۔ اسمبلی اجلاس کے دوران بھی اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو انہوں نے فوری طور پر قبول کیا۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کے سی آر عوامی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے اے سی کو بیروزگار نوجوانوں کے مسائل حکومت کے پاس موثر انداز میں پیش کرنے چاہیئے۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ کی جانب سے تلنگانہ میں خاندانی حکمرانی اور کے سی آر سمیت چار افراد کی حکومت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے ونود کمار نے کہا کہ تلنگانہ میں 4 افراد کی حکومت نہیں بلکہ ریاست کے 4 کروڑ عوام کی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے افراد خاندان نے بغیر جدوجہد کے اقتدار حاصل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس ایک جدوجہد کا نام ہے اور تلنگانہ کے حصول کیلئے کے سی آر کے ساتھ ان کے افراد خاندان کے ٹی آر، کویتا اور ہریش راؤ نے شانہ بہ شانہ کام کیا ہے۔ یہ قائدین عوام کے منتخب کردہ ہیں اور انہیں خاندانی حکمرانی سے تعبیر کرنا افسوسناک ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ خاندانی حکمرانی کی مثال خود کانگریس پارٹی ہے جو کئی دہوں سے ایک خاندان کے تحت کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کے خلاف ڈگ وجئے سنگھ کے الزامات دراصل اپنی گرتی ساکھ بچانے کی کوشش ہے۔ تلنگانہ میں عوام نے کانگریس کو مسترد کردیا ہے اور کہا کہ پارٹی کی ساکھ بچانے کیلئے حکومت پر الزام تراشی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پراجکٹس کی تکمیل کو روکنے کیلئے کانگریس کی جانب سے 36 مقدمات دائر کئے گئے۔ ونود کمارنے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں تلنگانہ کیلئے پراجکٹس کا اعلان کیا گیا لیکن ان کی تکمیل ٹی آر ایس حکومت کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت کی ضرورت کے لحاظ سے پراجکٹس کی ری ڈیزائننگ کی گئی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT