Tuesday , July 25 2017
Home / شہر کی خبریں / پروفیسر کودنڈا رام کی بے انتہا مقبولیت سے سرکاری حلقوں میں تشویش

پروفیسر کودنڈا رام کی بے انتہا مقبولیت سے سرکاری حلقوں میں تشویش

روزگار مسئلہ پر نوجوانوں کے حقوق کے لیے 22 فروری کو احتجاج بہرحال منظم کرنے کا اعلان
حیدرآباد۔14فروری(سیاست نیوز) حکومت کے خلاف باغیانہ تیور اختیار کرنے والے تلنگانہ تحریک کے سرکردہ قائدپروفیسر کودنڈا رام جنہیں تلنگانہ ملین مارچ کے دوران ’تلنگانہ گاندھی‘ قرار دیا جا چکا ہے انہیں تیزی سے سوشل میڈیا پر حاصل ہونے والی مقبولیت کے سبب سرکاری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پروفیسر کودنڈا رام نوجوانوں کے حقوق اور تلنگانہ میں نوجوانوں کو ملازمتوں کے موقع اور حکومت کی جانب سے ملازمتوں کی فراہمی میں ناکامی کے خلاف 22فروری کو احتجاج منظم کرنے کا اعلان کیا ہے اور ان کی جانب سے کئے گئے اس بات کے عام ہوتے ہی انہیں ریاست کے تمام اضلاع سے بھرپور حمایت ملنی شروع ہو چکی ہے اور بیرون ملک رہنے والے تلنگانہ شہری جو تحریک تلنگانہ کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرچکے ہیں وہ بھی ان کی اس تحریک کی حمایت کرنے لگے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پروفیسر کودنڈا رام کی مقبولیت سے خائف حکومت ان کے اس منصوبہ کو ناکام بنانے کی کوشش کر سکتی ہے لیکن نوجوانوں میں حکومت کے خلاف پیدا ہونے والی بغاوت کو روکنے کیلئے کی جانے والی سرکاری کوششیں خود حکومت کیلئے نقصاندہ ثابت ہوتی جا رہی ہیں۔ تحریک تلنگانہ میں پروفیسر کودنڈا رام نے ایک غیر سیاسی قائد کی حیثیت سے ایک نئی جان پیدا کی تھی اور اپنے ہدف کی تکمیل یعنی حصول تلنگانہ کے بعد خاموش ہو گئے تھے لیکن جب تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والوں نے پروفیسر کودنڈا رام سے اس بات کا استفسار شروع کیا کہ وہ حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ پر کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں تو انہوںنے چند ماہ قبل اپنی خاموشی توڑتے ہوئے حکومت کو حصول تلنگانہ سے قبل کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا مشورہ دیا لیکن ان کی بات جب نظر انداز کی جانے لگی تو اس وقت طلبہ جو کہ پروفیسر کودنڈا رام کے کٹر حامی ہیں طلبہ نے تحریک تلنگانہ میں نئی روح پھونکی تھی وہی طلبہ اب دوبارہ اپنے حقوق اور سنہرے تلنگانہ کے لئے دوبارہ تحریک شروع کرنے کیلئے تیار ہو چکے ہیں۔ فیس بک کے علاوہ دیگر سوشل میڈیا پر پروفیسر کودنڈا رام نے نوجوانوں کے نام جب پیامات ارسال کرنے شروع کئے تو ان کے پیغام صرف چند گھنٹوں میں لاکھوں کی تعداد تک پہنچنے لگے جس کے نتیجہ میں چند یوم کے اندر ہی 22فروری کو منعقد ہونے والے احتجاجی پروگرام کو زبردست مقبولیت حاصل ہوتی جا رہی ہے اور حکومت کی جانب سے اس پروگرام پر کی جانے والی تنقیدیں تشہیر کا سبب بن رہی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT