Saturday , October 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / پروفیسر کودنڈا رام کی یاترا کو پولیس نے طاقت سے ناکام بنادیا

پروفیسر کودنڈا رام کی یاترا کو پولیس نے طاقت سے ناکام بنادیا

جے اے سی قائدین کی گرفتاری، ٹی آر ایس اور جے اے سی کارکنوں میں جھڑپ
کاماریڈی :11 ؍اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)شہیدان تلنگانہ کے عزائم کی تکمیل میں حکومت کی جانب سے انجام دی جانے والی پالیسیوں کے خلاف تلنگانہ جے اے سی چیرمین پروفیسر کودنڈہ رام کی جانب سے شروع کردہ یاترا کو ناکام بناتے ہوئے جے اے سی چیرمین قائدین کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں واپس حیدرآباد روانہ کردیا گیا ۔ ٹی آرایس جے اے سی قائدین کے درمیان زبردست جھڑپ سے کئی قائدین بری طرح زخمی ہوگئے جس میں جے اے سی کے پرکاش نائیک کی حالت تشویشناک ہونے پر حیدرآباد روانہ کیا گیا ۔ پرتھیوی راج کے سرپر چوٹ لگنے کی وجہ سے ٹانکے لگے ۔ سی پی آئی سکریٹری سی ایم نرسمہا ریڈی ایڈوکیٹ ، سندیپ این ایس یو آئی جنرل سکریٹری بری طرح زخمی ہوگئے ۔ ٹی آرایس کے محمد سلیم دھکم پیل میں بری طرح مار لگنے پر انہیں کاماریڈی خانگی دواخانہ میں شریک کردیا گیا ۔ تفصیلات کے بموجب تلنگانہ جے اے سی چیرمین پروفیسر کونڈہ رام نے شہیدان تلنگانہ کے عزائم کی تکمیل اور ان کی جانب سے بتائے ہوئے راستہ پرچلتے ہوئے حکومت کے خلاف 11اور 12؍ اگست کے روز کاماریڈی ، نظام آباد، اضلاع میں بڑے پیمانے پر یاترا کرنے کیلئے آج 11 بجے کاماریڈی ضلع کے بھکنور پہنچنے پر پولیس نے جلسہ نہ کرنے کی ترغیب دی اور گاڑیوں کے قافلہ کے بجائے کودنڈہ رام کو تنہا آگے بڑھنے کی ہدایت دی جس پر پروفیسر کودنڈہ رام نے بھکنور میں ریالی اور جلسہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ٹی آرایس کے قائدین یہاں پہنچ کر پروفیسر کودنڈہ رام گو بیاک ( واپس چلے جائو) کے نعرہ لگاتے ہوئے سڑک پر بیٹھ گئے اور کودنڈہ رام کے خلاف احتجاج کرنا شروع کیااور دونوں کے درمیان زبردست جھڑپ ہوگئی اور دھکم پیل شروع ہوگئی جس پر حالات کشیدہ ہوگئے ان حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس نے کودنڈہ رام کو پولیس کی تحویل میں دے دیا اور پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ۔ جس پر جے اے سی نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن کے روبرو احتجاج کرنا شروع کیا ۔ ضلع جے اے سی چیرمین گوپال شرما نے ضلع ایس پی سے فون پر بات چیت کی ۔ ان کی ہدایت پر پولیس اسٹیشن میں بیٹھادیا ۔ جس پر پروفیسر کودنڈہ رام نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کا پولیس اسٹیشن میں اعلان کردیا تو پولیس انہیں زبردستی کھانا کھلانے کی کوشش کی تو کودنڈہ رام نے کھانے سے انکار کردیا ۔ پولیس اور جے اے سی کے درمیان زبردست دھکم پیلی ہوتے ہی حالات کو کشیدہ کرتے ہوئے دیکھ کر پولیس نے جے اے سی کے تمام قائدین کودنڈہ رام اور گوپال شرما ، سرینواس، جے اے سی چیرمین ورنگل ، سی پی آئی نیو ڈیمو کریسی کے پربھاکرو دیگر کو کار میں بیٹھا کر حیدرآباد روانہ کیا ۔ حکومت ہر محاذ میں ناکام ہونے کی وجہ سے حکومت پر دبائو ڈالتے ہوئے فیس ریمبرسمنٹ ، فنڈس کی اجرائی ، کسانوں و دیگر افراد کو حکومت کی اسکیموں سے مستفید کرانے کیلئے جے اے سی کوشاں ہے ۔ کاماریڈی ضلع میں 30 ہزار طلباء و طالبات نے فیس ریمبرسمنٹ کی عدم اجرائی کی وجہ سے بے حد پریشان ہے ۔ رکن اسمبلی یلاریڈی اے رویندرریڈی کے دھاندلیوں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔مشن بھگیرتا، مشن کاکتیہ اسکیم رکن اسمبلی کی جانب سے کنٹراکٹ کیا جارہا ہے ۔ ریت مافیا میں ٹی آرایس ملوث ہے ۔ ٹی آرایس قائدین دیہی سطح پر عوام کو جے اے سی کے جلسوں میں شرکت کرنے سے روک دیا جارہا ہے اور جے اے سی پر حملے کئے جارہے ہیں ۔ جے اے سی ٹی آرایس کے حملوں سے خوف زدہ نہیں ہے حملے ، دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر ہی اپنے کام کو انجام دے رہی ہے ۔ کودنڈہ رام کے جلسہ کے انعقاد کیلئے میونسپل آفس کے روبرو امبیڈ کر کے مجسمہ کے روبرو احتجاج شروع کرتے ہوئے جے اے سی کے قائدین سی ایل نرسمہا ریڈی ایڈوکیٹ و سکریٹری سی پی آئی سندیپ ، این ایس یو آئی کے اسٹیٹ سکریٹری پرتھیوی راج ، اے آئی ایس ایف سکریٹری پرکاش نائیک ، اے بی وی پی اسٹیٹ سکریٹری رجنی کانت، بھومیا ، نرسملو ، سنتوش ، دسرتھ ، لکشمن ، ارون ، ونود کمار و دیگر نے جلسہ گاہ میں بیٹھ کر تقریر کررہے تھے کہ 200 کارکنوں پر مشتمل ٹی آرایس قائدین نے یہاں پہنچ کر جے اے سی کے اسٹیج پر حملہ کیا ۔ ٹی آرایس قائدین وینو گوپال ، گوپی گوڑ، رمیش و دیگر نے آراینڈ بی گیسٹ ہائوز میںصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کودنڈہ رام کانگریس کے ایجنٹ ہے پراجیکٹ کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں اور طلباء تنظیموں کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کررہے ہیں اور اپنے آپ پر ٹماٹر اور انڈے پھیکتے ہوئے ٹی آرایس کو بدنام کررہے ہیں ۔ کسانوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو ٹی آرایس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ سرکل انسپکٹر کاماریڈی سریدھر کمار نے بتایا کہ ٹی آرایس اور جے اے سی کے درمیان ہوئے واقعات میں جے اے سی اور ٹی آرایس کے قائدین کو احتیاطی طور پر گرفتار کیا گیا ہے جے اے سی پر کئے گئے حملے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر دونوں پارٹی کے قائدین کو تحویل میں لے لیا گیا ۔

 

TOPPOPULARRECENT