Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / پروفیسر کودنڈا رام کے خلاف حکومت اور ٹی آر ایس کی ہر محاذ پر مخالفت

پروفیسر کودنڈا رام کے خلاف حکومت اور ٹی آر ایس کی ہر محاذ پر مخالفت

کانگریس اور تلگو دیشم کے ایجنٹ ہونے کا الزام ، پروفیسر کی قیام گاہ پر ٹی آر ایس حامی طلبہ کا احتجاج
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جنوری (سیاست نیوز) حکومت اور برسر اقتدار ٹی آر ایس نے تلنگانہ پولیٹیکل جے اے سی کے صدرنشین پروفیسر کودنڈا رام کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ کودنڈا رام حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور حالیہ عرصہ میں انہوں نے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے نام پر کسانوں سے جبری طور پر اراضیات کے حصول کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہے۔ جے اے سی کی مہم کو اپوزیشن جماعتوں کی تائید حاصل ہورہی ہے جس سے ناراض ہوکر حکومت نے کودنڈا رام کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی ہے ۔ ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے کودنڈا رام کے خلاف تنقیدوں کا آغاز ہوا اور انہیں کانگریس اور تلگو دیشم کا ایجنٹ قرار دیا گیا ۔ بیان بازی سے ہٹ کر اب ٹی آر ایس کے حامی طلبہ کے ذریعہ کودنڈا رام کی قیامگاہ پر دھرنا منظم کیا گیا۔ حکومت کی حامی طلبہ جے اے سی سے تعلق رکھنے والے قائدین نے آج تارناکہ میں کودنڈا رام کی قیامگاہ کے گھیراؤ کی کوشش کی ۔ یہ طلبہ اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے جس پر کودنڈا رام کے خلاف نعرے درج تھے ۔ احتجاجیوں نے الزام عائد کیا کہ پروفیسر کودنڈا رام تلنگانہ میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ حکومت نے سنہرے تلنگانہ کے مقصد سے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کا آغاز کیا ہے جس کیلئے کسان رضاکارانہ طورپر اراضی حوالے کر رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اشارے پر کودنڈا رام کسانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پراجکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا ہو۔ پولیس نے احتجاجی طلبہ کو حراست میں لے لیا اور بعد میں رہا کردیا گیا۔ واضح رہے کہ پروفیسر کودنڈا رام نے ملنا ساگر پراجکٹ کے متاثر کے حق میں مہم چھیڑ رکھی ہے اور کسان اس تحریک سے وابستہ ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT