Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / پروفیسر یوگیندر یادو کا خصوصی خطاب

پروفیسر یوگیندر یادو کا خصوصی خطاب

کے این واصف
نئی سماجی تنظیم ’’سوراج ابھیان‘‘ کے بانی رکن اور ممتاز دانشور پروفیسر یوگیندر یادو اور اس تنظیم کے جنرل سکریٹری فہیم خاں ان دنوں سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔ ان کی یہاں مو جودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن ریاض (اموبا) نے ’’موجودہ سیاسی حالات مسلمانوںکو درپیش چیلنجس‘‘ کے زیر عنوان یوگیندر یادوکے ایک خصوصی خطاب کا اہتمام کیا۔
سامعین سے کھچا کھچ بھرے ہال میں خطاب کرتے ہوئے پروفیسر یوگیندر یادو نے اپنے موضوع پر بات یوں شروع کی کہ ہندوستان میں اقلیتیں ظلم و ناانصافی کا شکار ہیں۔ ملک میں یہ ایک عام تصور ہے  لیکن اگر غور کیاجائے تو ہندوستان میں صرف مسلمان ہی ظلم و ناانصافی کی چکی ہیں پس رہا ہے جبکہ باقی سب اقلیتیں مزے سے جی رہی ہیں۔ یوگیندر یادو نے کہا کہ مسلم دشمنی کے تحت ملک میں کچھ نئے قوانین لائے جاتے ہیں یا لانے کی کوشش کی جاتی ہے جس پر مسلمان احتجاج کرتے ہیں اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ مسلم دانشور یا مسلم قیادت نے اس بات کی طرف دھیان نہیں دیا کہ 1956 ء کے سٹیزن شپ ایکٹ میں کسی قسم کی تبدیلی لائے بغیر ایک مخصوص طبقہ (مسلمان) کو دوسرے درجہ کا شہری بنایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خطرناک رجحان ہے یا سازش ہے کہ ملک میں غیر محسوس طریقہ سے مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنایا جارہا ہے۔ سرکاری محکموں کی اہم کرسیوں پر ایسے لوگ بٹھا دیئے گئے ہیں جنہیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مسلمانوں کوہر سطح پر ان کے دستوری حقوق سے محروم کیا جائے ۔ ان کے ساتھ دوسرے درجہ کے شہری کا سلوک روا رکھا جائے۔ انہیں یہ محسوس کرایا جائے کہ تم یہاں مالک نہیں کرایہ دار ہو۔ یہ آر ایس ایس کے مخفی ایجنڈہ کا حصہ ہے اور یہ عمل برسوں سے جاری ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مسلم قائدین نے آج تک اس جانب توجہ ہی نہیں دی ، نہ مسلمانوں کے دستوری حقوق کیلئے آواز ہی اٹھائی بلکہ ملک میں سیکولرازم کی ٹھکیدار سیاسی پارٹیاں بھی اس سلسلہ میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ سابق میں عام آدمی پارٹی سے جڑے رہے پروفیسر یادو نے کہا کہ مسلم طبقے کے پچھڑے پن کا بڑا سبب یہ ہیکہ اس طبقے میں 70 سال میں ایک قومی سطح کا قائد پیدا نہیں ہوا یا مسلم طبقہ خود پنے اندر اتحاد پیدا کر کے کسی ایک بیانر کے تحت جمع ہوا نہ ایک شخصیت کو اپنا قائد ماننے کی سعی کی ۔ انہوں نے کہاکہ ہر دور میں مسلمان سیکولرازم کی دہائی دیکر مسلم ووٹ حاصل کرنے و الوں کے بہکاوے میں آتے رہے اور ہمیشہ اغیار ہی کو اپنا ہیرو تسلیم کیا اور اپنے ووٹ کی طاقت کو  ضائع کرتے رہے۔ پروفیسر یادو نے کہا کہ اب صرف تعلیم ہی مسلمانوں کو مسائل کے طوفان سے بچاکر کنارے لگاسکتی ہے۔ لہذا اب حصول علم  مسلمانوں کا واحد ایجنڈہ ہونا چاہئے۔

یوگیندر یادو نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں پر مسلسل دباؤ بنائے رکھنے ان میں خوف ہراس ، عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کیلئے بی جے پی مختلف اقدام کرتی ہے جس میں بابری مسجد کا انہدام جو ملک وقوم پر کلنک بن کر رہ گیا اور اب یکساں سیول کوڈ کی تجویز وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ ہندوستان میں لاگو کیا ہی نہیں جاسکتا۔ یہ تجاویز و اعلانات صرف مسلمانوں کو الجھائے رکھنے کیلئے جاتے ہیں ۔ یادو نے کہا کہ اول تو آج تک کسی نے یکساں سیول کوڈ کا مسودہ تیار ہی نہیں کیا ، دوسرے یہ کہ اگر ایسا کوئی قانون تیار کیا بھی جائے گا تو سب سے پہلے اس کی مخالفت ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ کرے گا کیونکہ اس سے ہندوؤں کے رسم و رواج اور عقائد متاثر ہوں گے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے ہر پڑھے لکھے انسان کو اس بات کا علم ہے کہ عورت کو سب سے زیادہ حقوق اسلام ہی میں دیئے گئے ہیں۔ لہذا بی جے پی کی جانب سے عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کرنا صرف ایک تماشہ کھڑا کرنے اور مسلمانوں کو اس میں الجھائے رکھنے کے سوا کچھ نہیں۔ یادو نے کہا کہ نریندر مودی ہندوستانی قوم کو موافق مودی اور مخالف مودی میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں جو ایک خطرناک رجحان ہے، حکومت کو اپنی کارکردگی سے مقبولیت حاصل کرنی چاہئے ۔

سوراج انڈیا پارٹی کے صدر یوگیندر یادو نے بانی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سر سید احمد خاں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ہمیشہ قومی دھارے میں شامل رہنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ سرسید تا حیات عمر اس پالیسی پر گامزن رہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مسلم قیادت کو چاہئے کہ وہ اس پر عمل کرے اور مسلمانوں کی رہنمائی بھی کرے۔
اس تقریب کا آغاز ڈاکٹر عبدالاحد چودھری کی قرات کلام پاک سے ہوا۔ اموبا کے نائب صدر سلمان خالد کے ابتدائی کلمات کے بعد صدر اموبا انجنیئر سہیل احمد نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نفرت کی سیاست ملک کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ انہوں نے یوگیندر یادو کے خصوصی خطاب کو ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ایک اہم خطاب قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اجتماعات اموبا کی سرگرمیوں کا ہمیشہ حصہ رہے ہیں۔ سہیل احمد کے بعد معروف سماجی کارکن ڈاکٹر عبدالسلام نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی حکومت ایک جادو کا کھیل ہوگئی ہے جس میں نظر کچھ آتا ہے اور حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک چندامیروں کے ہاتھ بیچا جارہا ہے اور ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری اپوزیشن کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے ، اس لئے حکومت من مانی کر رہی ہے ۔ ڈکٹر سلام نے ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ بھی پیش کیا۔
اس محفل کی نظامت کے فرائض سلمان خالد اور محمد ضیغم خاں نے انجام دیئے ۔ ارشد علی خاں کے ہدیہ تشکر پر محفل کا اختتام عمل میں آیا۔

عمرہ ویزا فیس
پچھلے کئی روز سے زائرین و معتمرین عمرہ ویزا فیس سے متعلق غیر مصدقہ خبروں پر تذبذب کا شکار تھے ۔ اس کی حقیقت کچھ تھی اور ایجنٹ حضرات انہیں کچھ اور باور کرا رہے تھے ۔ دو روز قبل حکومت سعودی عرب نے اس سلسلے میں ایک واضح اعلان جاری کر کے اس معاملے کو پوری طرح واضح کردیا ۔ حکومت کے اعلان کے مطابق ارض مقدس آنے والے کسی بھی معتمر سے عمرہ فیس نہیں لی جائے گی۔ البتہ سال رواں کے دوران یا آئندہ برسوں میں دوسری مرتبہ آنے پر معتمر کو 2000 ریال فیس ادا کرنی ہوگی ۔ عمرہ کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران عمرہ ویزے پر آنے والا معتمر اگر سال رواں میں بھی ارض مقدس آنا چاہے تو اس سے عمرہ فیس نہیں لی جائے گی لیکن یہی عمرہ فیس 2000 ریال لی جائے گی۔
بتایا گیا کہ مختلف شہروں میں ایجنٹ حضرات جانے، انجانے میں معتمرین کو غلط باور کراکر ہر حالت میں 2000 ریال فیس کی مانگ کر رہے ہیں۔ معتمرین و زائرین کو ان کے فریب میں نہیں آنا چاہئے ۔ یہاں شائع اطلاع بالکل مصدقہ ہے اور عوام کو ایجنٹس سے رابطہ کے وقت سختی سے یہ موقف اختیار کرنا چاہئے کہ ہجری سال 1438 سے ہی پہلا عمرہ شمار ہوگا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT