Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / پریس کو دھمکانا، حریف امیدوار کو جیل بھیجنا، مذہبی بنیاد پر تفریق ہی ٹرمپ کا شیوہ

پریس کو دھمکانا، حریف امیدوار کو جیل بھیجنا، مذہبی بنیاد پر تفریق ہی ٹرمپ کا شیوہ

جو ریالیوں میں خواتین کی توہین کرتا ہے وہ اوول آفس میں کیا کرے گا۔ اوباما کا انتخابی ریالی سے خطاب
جیکسن ولے (فلوریڈا) ۔ 4 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر بارک اوباما نے فلوریڈا میں ایک انتخابی ریالی کے دوران اپنے خطاب کے دوران جو باتیں کہیں وہ امریکی عوام کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی ریالیوں میں شریک امریکی عوام ان کی (ٹرمپ) اناپ شناپ باتوں کو سن کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بے حس ہوگئے ہیں اور کم سے کم ووٹرس کی یہ بے حسی تو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو امریکی عوام گذشتہ ایک سال سے برداشت کررہے ہیں۔ وہ جو بھی کہہ رہے ہیں اسے سن رہے ہیں اور سننے کا یہ عمل اتنی جلدی جلدی (ریالیوں کا انعقاد) ہورہا ہے کہ عوام سنتے سنتے بے حس ہوگئے ہیں۔ ہم نے اسے معمول بنا لیا ہے اور یہ سمجھنے لگے ہیں کہ یہ کوئی ٹی وی ریالٹی شو ہے۔ آپ کو پتہ ہے نا کہ ریالٹی شو میں کیا ہوتا ہے۔ شرکاء کا کوئی بھی پسندیدہ فنکار چاہے اس کا تعلق فنون لطیفہ کے کسی بھی شعبہ سے ہو، جب کچھ کہتا ہے کہ تو شرکاء جو دراصل اس کے مداح ہوتے ہیں، زور زور سے آوازیں نکالتے ہیں اور یہ ڈرامہ بازی اس لئے کی جاتی ہیکہ شو کی ’’ریٹنگ‘‘ بہتر ہو اور یہی ہم سب لوگ کررہے ہیں۔ ملک میں ہونے والے الیکشن کو ہم ریالٹی شو سمجھ رہے ہیں اور اسے معمول کی بات کہہ کر بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ جس سے پوچھو وہ یہی کہتا ہیکہ اگر ٹرمپ مالداروں کیلئے ٹیکس کی زائد کٹوتی کریں گے اور اگر وہ میرے ایجنڈہ (کسی بھی ووٹر کا خیال) کی تکمیل کرتے ہیں تو میرا ووٹ ٹرمپ کیلئے ہوگا۔ اوول آفس جہاں میں آٹھ سال تک رہا ہوں۔

وہاں کا ایک نظم و ضبط ہے۔ پروٹوکول ہے۔ وہاں آپ کو پتہ چلتا ہیکہ آپ کون ہیں۔ کیا ہیں۔ آپ کے اختیارات کیا ہیں۔ اوول آفس میں منتقل ہونے کے بعد یہ بدل نہیں جاتا بلکہ یہ آپ کی شخصیت کو رعب دار بنادیتا ہے۔ آپ مرکز توجہ بن  جاتے ہیں کیونکہ آپ اختیارات کے حامل شخص بن جاتے ہیں۔ تاہم اگر اس باوقار دفتر میں آنے سے قبل ہی آپ خواتین کی توہین کرنے لگیں تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ (صدر بننے کی صورت میں) اوول آفس میں آنے کے بعد بھی خواتین کے تئیں آپ کا رویہ تبدیل نہیں ہوگا۔ اگر آپ انتخابی ریالیوں کے دوران ہی پریس کو دھمکانے لگیں جو اگر کوئی ایسی بات تحریر کردے جو آپ کو پسند نہیں یا آپ صدارتی مباحثہ میں اپنے حریف کو جیل بھجوانے کی بات کریں یا پھر مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان نفرت کے بیج بونے لگیں تو پھر آپ اوول آفس میں آنے کے بعد (صدر بننے کی صورت میں) بھی وہی سب کام کریں گے جو آپ نے انتخابی ریالیوں کے دوران کیا تھا۔ ہم ریپبلکن یا ڈیموکریٹ نہیں ہیں بلکہ انسان پہلے ہیں۔ ہم امریکی شہری ہیں۔ میرے ایسے کئی ریپبلکن احباب ہیں جن کے سوچنے کا ڈھنگ ویسا نہیں ہے جیسا ٹرمپ کا ہے۔ ٹرمپ جمہوریت کیلئے خطرہ ہیں اور صدر کے عہدہ کیلئے قطعی ناموزوں۔ انہوں نے ووٹرس سے خواہش کی کہ اب ٹرمپ اور ہلاری کے درمیان مقابلہ کانٹے کا ہوگا

اور یہ عوام کا فرض ہیکہ وہ اپنے اپنے مکانات سے باہر نکل کر پولنگ بوتھس پہنچیں اور اپنے حق رائے دہی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ اب یہ مقابلہ انتہائی نازک اور فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوگیا ہے اور اسے امریکی عوام تن آسانی سے نہ لیں۔ اوباما نے فلوریڈا میں کل دو ریالیوں سے خطاب کیا۔ ہم نے آٹھ سال تک جو بھی کام کیا وہ سب پولنگ بوتھس کی کھڑکیوں کے راستے نکل جائے گا۔ اگر ہم نے یہ الیکشن نہیں جیتا، ووٹرس کو اب اپنا رویہ تبدیل کرتے ہوئے ایسا موقف اختیار کرلینا چاہئے کہ اسی رائے دہی سے ان کا مستقبل وابستہ ہے۔ اس مقابلہ میں صرف اور صرف ایک ہی امیدوار ایسا ہے جس نے اپنی پوری زندگی امریکہ کی بہتری کیلئے وقف کردی اور وہ ہیں امریکہ کی آئندہ صدر ہلاری کلنٹن ۔ اوباما نے ایک بار پھر ٹرمپ اور ہلاری کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ جہاں وائیٹ ہاؤس کیلئے بالکل غیرموزوں اور نامناسب شخصیت ہیں وہیں دوسری طرف ہلاری کلنٹن امریکہ کی تاریخ میں اب تک کے تمام صدارتی امیدواروں میں سب سے زیادہ اہلیت کی حامل امیدوار ہیں۔ لہٰذا آپ یہ دیکھتے ہیں کہ ایک شخص بالکل موزوں ہے اور دوسرا شخص ناموزوں۔ تو آپ کا ووٹ کس کیلئے ہوگا۔ اوباما کے ایسا کہتے ہی وہاں موجود ہزاروں افراد نے تالیوں سے ان کی ستائش کی۔

TOPPOPULARRECENT