Wednesday , May 24 2017
Home / شہر کی خبریں / پری پرائمری اسکولوں کے الحاق کا لزوم ، خانگی تعلیمی اداروں کے لیے مشکلات

پری پرائمری اسکولوں کے الحاق کا لزوم ، خانگی تعلیمی اداروں کے لیے مشکلات

شرائط کی عدم تکمیل پر اسکولوں کو غیر مسلمہ قرار دے کر مہر بند کردیا جائے گا
حیدرآباد۔10جنوری (سیاست نیوز) محکمہ تعلیم کی جانب سے پری پرائمری اسکولوں کے الحاق اور اجازت نامہ کے لزوم نے خانگی تعلیمی اداروں کو مشکلات میں مبتلاء کردیا ہے۔ پری پرائمری اسکولو ںکے لزوم کے فیصلہ کے بعد جاریہ تعلیمی سال کے دوران جن اسکولو ںمیں پری پرائمری اسکول چلائے جا رہے ہیں ان اسکولوں کو اجازت نامہ جاری کرنے کے لئے قواعد و ضوابط کا اعلان کیا گیا تھا اور تعلیمی سال 2017-18کیلئے نئے رہنمایانہ خطوط مرتب کرتے ہوئے الحاق و اجازت نامہ فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن ان اسکولوں کو حکومت کی جانب سے متعین کردہ یکساں تعلیمی نصاب رکھنے کا پابند بنانے کے علاوہ دیگر شرائط کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جار ہا ہے کہ ان امور و شرائط کی تکمیل پر ہی پری پرائمری اسکولو ںکے اجازت نامہ جاری کئے جائیں گے بصورت دیگر ان اسکولوں کو غیر مسلمہ قرار دیتے ہوئے مہر بند کردیا جائے گا۔ خانگی اسکولوں کا استدلال ہے کہ اس طرح کے شرائط کا فوری اثر کے ساتھ اطلاق کیا جانا نا ممکن ہے جبکہ اولیائے طلبہ کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیا جانے والا اقدام طلبہ کے مفاد میں ہے اور عہدیدار اس مسئلہ پر سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہیں جس کے سبب آئندہ تعلیمی سال کے دوران کئی خانگی اسکولوں کے پری پرائمری شعبہ کو اجازت نامہ حاصل ہونے کی امید ختم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ حکومت کے موقف کیکے برخلافکئی تعلیمی ادارے جن کے پاس ان کا اپنا تیار کردہ نصاب موجود ہے وہ اس نصاب کے ذریعہ تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کا موقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے صرف ان اسکولوں کو پری پرائمری اسکول چلانے کی اجازت دی جائے گی جو اسکول حکومت کی تعلیمی پالیسی کے مطابق شرائط کی تکمیل کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ پری پرائمری اسکولوں میں تعلیمی نصاب کو یکساں بنانے کی کوشش کی خانگی اسکولوں کی جانب سے مخالفت کی وجہ اسکولوں کے معیار اور اپنے طلبہ کی تیاری میں اپنے کردار کو ملحوظ رکھنا ہے۔ خانگی اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریاست کے کسی بھی پری پرائمری اسکول کو گذشتہ سال تک بھی اجازت کے حصول کی ضرورت نہیں تھی لیکن حکومت نے سال گذشتہ خانگی پری پرائمری اسکولو ں کو مسلمہ حیثیت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے اعتبار سے اب تمام پری پرائمری اسکولوں کو اجازت نامہ حاصل کرنے لازمی ہو چکا ہے۔حکومت نے سرکاری اسکولوں میں بھی پری پرائمری شعبہ کا تجرباتی اساس پر آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے خانگی اسکولوں میں شرائط کی عدم تکمیل کے مرتکب اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے اور پری پرائمری کی اجازت کے بغیر چلائے جانے والے اسکولوں کی پرائمری اور ہائی اسکول کی مسلمہ حیثیت کو برخواست کرنے کے متعلق بھی غور کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT