Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو تحفظات کا حق ، تمام طبقات میں اتحاد ناگزیر

پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو تحفظات کا حق ، تمام طبقات میں اتحاد ناگزیر

نئی دہلی میں وی ہنمنت راؤ کا احتجاجی دھرنا ، شردیادو کی حمایت و تائید ، تحریک تحفظات میں شدت پیدا کرنے کا مشورہ
محمد نعیم وجاہت
نئی دہلی ۔ 5 ۔ مئی : جے ڈی یو کے قائد شردیادو نے تحفظات کو پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کا حق قرار دیتے ہوئے خانگی شعبہ اور عدلیہ میں انہیں تحفظات فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کا ورزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کرتے ہوئے بل کی مکمل تائید کا اعلان کیا ۔ سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے دہلی کے جنتر منتر پر پسماندہ طبقات و اقلیتوں کو خانگی شعبہ میں تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی دھرنا منظم کیا ۔ اس کی تائید کرتے ہوئے مسٹر شرد یادو نے کہا کہ پسماندہ طبقات ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی طبقات اور اقلیتیں متحد نہیں ہیں جس کی وجہ سے 10 فیصد حکمران طبقہ 90 فیصد پسماندہ طبقات اور اقلیتیں اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں ۔ تعلیم اور ملازمتوں کے علاوہ دوسرے شعبہ جات میں نا انصافی ہورہی ہے ۔ متحد ہونے پر ہی نا انصافیوں کے خلاف مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ جماعت جے ڈی یو سے احتجاجی دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر تمام قائدین اس تحریک کا حصہ بن جانے پر زور دیا اور کہا کہ سڑکوں پر نکل کر اپنی احتجاج میں شدت پیدا کریں ۔ سی پی آئی کے سکریٹری جنرل مسٹر سدھاکر ریڈی نے کہا کہ خانگی شعبوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ میں بھی تحفظات لازمی ہوگئے ہیں ملک میں ایک منظم سازش کے تحت پبلک سیکٹر کو ختم کرتے ہوئے خانگی شعبہ کو فروغ دیا جارہا ہے جو جمہوریت کے لیے خطرہ ہے ۔ آر ایس ایس تحفظات کے خلاف ہے ۔ تحفظات کو ختم کرنے کے لیے پٹیل طبقہ کو 10 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے ہیں ۔ سازشوں سے چوکنا ہوتے ہوئے پسماندہ طبقات اور اقلیتیں متحدہ طور پر خانگی شعبہ میں تحفظات کے لیے اپنی تحریک جاری رکھیں ۔ صدر آل انڈیا کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر خورشید احمد سعید نے کہا کہ نریندر مودی ملک کے پہلے وزیر اعظم ہے جنہوں نے اپنی ذات کے نام پر ووٹ مانگا ہے ۔ ملک میں اظہار خیال کی لڑائی ہے ۔ تمام شعبوں میں ناکام ہونے والی بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت ملک میں ذات پات ، نسل پرستی ، مسجد مندر کے مسئلہ کو ابھارتے ہوئے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے ۔ سی پی آئی کے سکریٹری مسٹر ڈی راجہ نے کہا کہ بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت تشکیل پانے کے بعد ملک میں تحفظات کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ امبانی ، اڈوانی اور ٹاٹا گروپ کو خوش کرنے کے لیے ملک بھر میں خانگی شعبہ کا جال بچھایا جارہا ہے مگر تقررات میں تحفظات کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ مسٹر وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ خانگی شعبوں میں پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حیدرآباد میں احتجاجی دھرنا منظم کرچکے ہیں ۔ آج دہلی میں احتجاج کیا جارہا ہے ۔ ایسے احتجاج ملک کی تمام ریاستوں میں منظم کئے جائیں گے ۔ حکومت خانگی شعبوں کو اہمیت دے رہی ہے ۔ جس کے نتیجے میں زعفرانیت کو پھیلاتے ہوئے ملک کو ہندو راشٹرا بنانے کی سازش کی جارہی ہے ۔ نریندر مودی برائے نام وزیر اعظم ہے ۔ ان کا ریمورٹ کنٹرول آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر میں ہے ۔ ایک منظم سازش کے تحت تحفظات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس موقع پر ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ ڈاکٹر کیشو راؤ ، مسٹر نرسیا گوڑ ، تلگو دیشم کے رکن راجیہ سبھا مسٹر دیویندر گوڑ ، وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ مسٹر ورا پرساد کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ مسٹر نندی ایلیا مسٹر ایم اے خاں ، مسٹر آنند بھاسکر ، مسٹر عسکر علی ، مسٹر علی انور ، جے ڈی یو آل انڈیا کانگریس ایس سی سیل کے صدر کے راجو نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخر الدین نظام آباد صدر کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر سمیر احمد ، مسٹر محمد جمال شریف ( ورنگل ) ، مسٹر ساجد خاں ( عادل آباد ) ، کانگریس قائدین مسٹر فاروق پاشاہ قادری ، مسٹر عبدالکبیر مسٹر اعجاز خاں ، مسٹر عبدالرشید کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT