Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / پسماندہ طبقات کی فہرست کی از سر نو تیاری کا آغاز،ریاستوں کے ساتھ مشاورت کیلئے راجیہ سبھا سیلیکٹ کمیٹی کی تشکیل

پسماندہ طبقات کی فہرست کی از سر نو تیاری کا آغاز،ریاستوں کے ساتھ مشاورت کیلئے راجیہ سبھا سیلیکٹ کمیٹی کی تشکیل

حیدرآباد۔21اپریل (سیاست نیوز) راجیہ سبھا سیلیکٹ کمیٹی ریاستوں کی جانب سے پسماندہ طبقات کی فہرست کی تیاری اور ان کے لئے تحفظات کی فراہمی کے امور کا جائزہ لے گی اور جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق مسئلہ کی عاجلانہ یکسوئی کے ذریعہ ریاستوں کے مطالبات کو پورا کیا جاسکے یا پھر ان میں سیلیکٹ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ترمیم کی جائے ۔ راجیہ سبھا سیلیکٹ کمیٹی کی جانب سے تمام ریاستی حکومتوں کو مدعو کرتے ہوئے ان کی اس مسئلہ پر رائے حاصل کی جائے گی اور پارلیمنٹ میں بل کی پیشکشی کے متعلق قطعی فیصلہ پر حکومت کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔ حکومت نے بل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے جو سیلیکٹ کمیٹی تشکیل دی وہ ہر دو شنبہ کو اس مسئلہ پر سماعت مقرر کرتے ہوئے ریاستی حکومتوں کے نظریا ت سے واقفیت حاصل کر رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ دو شنبہ کو منعقدہ اجلاس میں وزارت سماجی انصاف و ترقیات کے عہدیداروں کو مدعو کرتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ پسماندہ طبقات کی فہرست کی از سر نو تیاری اور پسماندہ طبقات کی فہرست میں طبقات کے اخراج یا شمولیت کا فیصلہ ریاستوں کے حوالے کیا جائے یا مرکزی حکومت کے اپنے اختیار میں ہی رکھا جانا چاہئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی رکن پارلیمنٹ مسٹر بھوپیندر یادو کی قیادت میں کام کر رہی اس کمیٹی جانب سے تمام ریاستوں میں پسماندہ طبقات کی موجودہ صورتحال اور ان حالات میں حکومتوں کی جانب سے جاری مطالبات کی یکسوئی ناگزیر تصور کی جا نے لگی ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق بل کے مطابق قومی سطح پر موجود او بی سی زمرہ میں نئے طبقات کے اندراج کو پارلیمنٹ کی منظوری لازمی قرار دینے کا منصوبہ ہے اور ریاستوں کی جانب سے طلب کئے جانے والے اختیارات کے متعلق بھی ان اجلاسوں میں غور کیا جانے لگا ہے تاکہ مختلف ریاستوں کی جانب سے پسماندہ طبقات کی موجودہ صورتحال میں تبدیلی اور ان کے لئے تحفظات کی فراہمی کی وکالت کی جانے لگی ہے ۔ذرائع کے مطابق راجیہ سبھا سیلیکٹ کمیٹی کی جانب سے تمام ریاستوں کے ذمہ داروں سے مشاورت اور ان کے موقف کی سماعت کے بعد ہی کمیٹی جانب سے حکومت کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں بل کی پیشکشی اس سے دستبرداری کا فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ مطالبات کرنے والی ریاستوں کی جانب سے بھی کمیٹی کو رجوع ہونے موقع دیا جائے گا اور ان کے استدلال کی سماعت کے بغیر کوئی قطعی مسئلہ نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT