Monday , October 23 2017
Home / پاکستان / پشاور سانحہ کی پہلی برسی، نواز شریف کا خطاب

پشاور سانحہ کی پہلی برسی، نواز شریف کا خطاب

پشاور ۔ 16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں 141 افراد کی ہلاکت کے واقعے کی پہلی برسی چہارشنبہ کو سرکاری سطح پر منائی گئی۔ 16 دسمبر 2014 کو ہوئے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت طلبہ کی تھی اور برسی کی مرکزی تقریب بھی اسکول میں منعقد کی گئی۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 16 دسمبر کو ’قومی عزم تعلیم‘ کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمارے ماضی کا حصہ تو ہے ہی لیکن وہ اسے حال اور مستقبل کا حصہ بھی بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 16 دسمبر 2014 کا المیہ ہمارے دلوں کو چھلنی کر گیا لیکن ہمیں متحد کر گیا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’تعلیم کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔ ہم تعلیم کو اولین ترجیح دیں گے۔ ہم نئی نسل کو پرامن، ترقی کی راہ پر گامزن پاکستان دیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کا دل دکھ اور غم کے احساس سے بوجھل ہے۔ ’اس سانحے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور سب کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کیا کہ کیا انسانیت سے عاری ایسے درندے کسی نرمی کے مستحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے بھی پشاور آتے ان کے ذہن میں یہ خیال پختہ ہو رہا تھا کہ ’انسانوں کا مکالمہ ان سے ہو سکتا ہے جو انسانوں کی زبان سمجھتے ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’پشاور کی زمین پر قدم رکھنے سے پہلے مجھے معصوم بچوں کے لہو نے ایک فیصلے پر پہنچا دیا تھا۔ ہم پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی پر ضرب لگائیں گے۔‘ انھوں نے قومی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا: ’جن کے تعاون سے آئینی ترمیم کی فوجی عدالتیں بنائیں اور نیشنل ایکشن پلان بنایا۔ اور اس پختہ عز کے ساتھ میدان میں اترے کہ اس سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کر کے دم لیں گے۔‘ وزیراعظم نواز شریف نے طلبہ و طالبات کو مخاطب کر کے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید بچوں کا لہو بول رہا ہے۔ ضربِ عضب کی ہر کارروائی میں لہو بول رہا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے، ن کی پناہ گاہیں اور انفراسٹرکچر ٹوٹ چکا ہے۔ بہت جلد دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ملک کا گوشہ گوشہ پر امن ہو گا۔

TOPPOPULARRECENT