Tuesday , October 24 2017
Home / پاکستان / پشاور سرچ آپریشن کے دوران 20مشتبہ افراد زیر حراست

پشاور سرچ آپریشن کے دوران 20مشتبہ افراد زیر حراست

طالبان سے حکومت افغانستان کی امن بات چیت کی احیاء کی کوشش
پشاور/ کابل۔27ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پشاور کے نواحی علاقہ میں سرچ آپریشن کے دوران 20مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن میں تین افغان باشندے بھی شامل ہیں ۔ پولیس کے مطابق پشتحرہ کے علاقہ میں سرچ آپریشن کیا گیا جس دوران تین افغان باشندوں سمیت 20 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا جن کے قبضہ سے 4 پستول‘ ایک شارٹ مشین گن اور سینکڑوں کارتوس برآمد ہوئے ۔ مشتبہ افراد کو پولیس اسٹیشن منتقل کر کے تحقیقات کی جارہی ہے ۔پاکستان کی طاقتور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دورہ افغانستان کا مقصد افغان قیادت کے ساتھ صیانتی مسائل پر بات چیت کے علاوہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا احیاء بھی ہے ۔ جنرل شریف صدر افغانستان اشرف غنی اور دیگر سیول اور فوجی قائدین سے اپنے ایک روزہ طویل دورہ کے موقع پر ملاقاتیں کریں گے ۔ پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل  اسیم سلیم باجوا نے کہا کہ جنرل شریف کابل پورے خلوص اور اُمید کے ساتھ گئے ہیں ‘ تاکہ سرحدات کا بہتر انتظام ہوسکے اور افغانستان میں امن مذاکرات کا احیاء ہوسکے ۔ قبل ازیں صدر افغانستان اشرف غنی نے جاریہ ماہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے سلسلہ میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور سینئر قائدین سے بات چیت کی تھی جس کے نتیجہ میں کشیدگی کا شکار باہمی تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوئی تھی ۔ افغانستان واضح طور پر پاکستان سے ناراض ہے کیونکہ سرحد پار روپوش طالبان سرزمین افغانستان پر پُرتشدد حملے کررہے ہیں ۔ حکومت افغانستان چاہتی ہے کہ حکومت پاکستان عسکریت پسندوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے اور انہیں تشدد ترک کرنے کی ہدایت دے اور خواہش کرے کہ وہ اصل سیاسی دھارے میں شامل ہوجائیں اور افغانستان کے دستور کو تسلیم کریں ۔ جنرل شریف قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ گذشتہ مئی میں افغانستان کا دورہ کرچکے ہیں جس کے نتیجہ میں گذشتہ جولائی میں حکومت افغانستان اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا ۔ذرائع کے بموجب کوششیں پہلے ہی سے جاری ہے تاکہ عسکریت پسندوں اور افغانستان کے عہدیداروں کی آئندہ ماہ ملاقات ہوجائے اور جنرل راحیل شریف کا یہ دورہ اس سلسلہ میں اپنا اہم کردار ادا کرے ۔

TOPPOPULARRECENT